خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 102
خطبات طاہر جلد۵ 102 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۸۶ء کی آنکھ جس کے اعمال پر پڑتی ہو اس میں کسی غلطی کی ٹھوکر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔پس آپ کے لئے ضرورت نہیں کہ مزید سوچیں سوچیں ، مزید ند برکریں، غور و فکر کریں کہ ہم کس طرح اپنے اخلاق کو حسین بنائیں۔آپ کا تو صرف اتنا کام رہ گیا ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کی سنت سے واقف ہوں اور اس سے محبت کریں اور اس محبت کی نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کے اخلاق کو اپنانے لگ جائیں اگر حسین سے محبت ہو جائے تو لازماً اس کا حسن محبت کرنے والے میں بھی سرایت کر نے لگتا ہے۔اگر آنحضرت ﷺ کی سنت سے آپ کو محبت ہو جائے تو اسکا لازم یہ نتیجہ نکلے گا کہ جن باتوں میں آپ کو سنت کا علم نہیں بھی ہو گا ان باتوں میں بھی آپ سے سنت والے اعمال رونما ہونے لگ جائیں گے۔یہ ایک فطرتی نتیجہ ہے گل سے محبت کرنے کا کہ جزء درست لگتے ہیں خواہ بعض اجزاء کا علم نہ بھی ہو۔ت عمل ہے جب خود بیمار ہوتے تھے تو اپنی بیگمات پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے تھے جب وہ بیمار ہوتی تھیں تو ان کے ساتھ حسن سلوک فرمایا کرتے تھے۔روزانہ گھر میں کاموں میں حصہ لیا کرتے تھے اپنے کپڑے خود سیا کرتے تھے ، اپنی جوتیوں کو بھی بعض دفعہ خود پیوند لگایا کرتے تھے، روزمرہ کے کاموں میں اپنی بیویوں کی مدد کیا کرتے تھے۔آج کل اگر کسی مرد سے کہا جائے کہ تم بھی گھر کے کاموں میں دلچپسی لو تم بھی اپنی عورت کے ساتھ مددکرو، اس پر بے وجہ بوجھ نہ ڈالو، اگر وہ خود شوق سے خدمت کرتی ہے تو بیشک کرواؤ خدمت لیکن وقت بے وقت بیمار دیکھ کر اور مصیبت میں دیکھ کر بھی اس کو خدمت پر مجبور کرنا یہ سنت نبوی کے خلاف ہے۔تو ایسا مرد بعض دفعہ یہ کہتا ہے کہ جی وہ اور وقت تھے، ہم تو بڑے مصروف ہیں، اس مصروف زندگی میں بھلا ہو سکتا ہے کہ ہم باہر بھی کام کریں اور اندر آ کر بھی عورت کی مدد کریں۔وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ ساری دنیا میں جب سے انسان بنا ہے اور جب تک رہے گا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے زیادہ مصروف کوئی انسان نہیں تھا نہ ہے اور نہ ہوگا۔اتنا حیرت انگیز ہے آپ کا مصروف الاوقات ہونا کہ خود یہ اپنی ذات میں ایک معجزہ معلوم ہوتا ہے۔قرآن کریم گواہی دیتا ہے کہ سارا دن تجھ پر اتنے کام ہیں، اتنے بوجھ ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ تو ہر وقت ہماری یاد میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی ان کاموں کی وجہ سے الگ نہیں ہو سکتا اس لئے اے میرے بندے رات کو اٹھ کر مجھ سے ملا کر ، رات کو اٹھ کر عبادت کیا کر۔اس سے زیادہ قطعی