خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 96
خطبات طاہر جلد۵ 96 خطبہ جمعہ ۳۱ /جنوری ۱۹۸۶ء چاہئیں۔ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے اور در حقیقت یہ ہم پر اتمام نعمت ہے ، اس کا شکریہ یہ ہے کہ ہم عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں ( ملفوظات جلد اول صفحه ۳۰۷) ایک دفعہ ایک دوست کی شکایت ہوئی کہ وہ اپنی بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے تو آپ نے فرمایا ”ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہیئے ( ملفوظات جلد سوم صفحه : ۳۰۰) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ” عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔مختصر الفاظ میں فرما دیا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ (البقره: ۲۲۹) که جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں۔بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں ، گالیاں دیتے ہیں ، حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سیبرتتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کر دیتے ہیں۔آنحضرت عمﷺ کا گھر میں اپنی ازواج مطہرات سے جو سلوک تھا اس کی تفصیل بیان کرنے کے لئے تو ایک سے زیادہ خطبے درکار ہیں اور کئی تقاریر کا مضمون بن سکتا ہے کیونکہ بکثرت آنحضرت ﷺ کی ازدواجی زندگی کی تصویر میں احادیث میں موجود ہیں۔کیا کرتے تھے روزانہ، کس طرح کا سلوک تھا۔اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے ، کھاتے پیتے ،ناراضگیوں کے وقت صلح کے وقت ،اظہار محبت کے وقت اظہار ناراضگی کے وقت، ہر قسم کے حالات میں صبح سے شام تک تمام آنحضرت ﷺ کے اندرونی گھر یلو واقعات احادیث نبوی میں محفوظ ہیں اور امت کی تعلیم کی خاطر امہات المؤمنین نے شب باشی کے واقعات بھی اس حد تک بیان فرمائے جس حد تک مسلمانوں کی تعلیم کے لئے ضروری ہیں۔تو بہت ہی وسیع مضمون ہے ، خلاصہ یہ ہے کہ ساری زندگی حضوراکرم نے ایک مرتبہ بھی ازواج مطہرات میں سے کسی کو نہیں مارا اور امر واقعہ یہ ہے کہ ازواج