خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 979 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 979

خطبات طاہر جلدم 979 خطبه جمعه ۱۳؍ دسمبر ۱۹۸۵ء۔چیز کے مقابل پر جس کی کشش کم ہو زیادہ قوت کے ساتھ اپنی طرف کھینچتی ہے۔ویسے تو دنیا میں ہر چیز ایک دوسرے کو کھینچ رہی ہے۔کوئی ایک بھی ذرہ نہیں جو دوسرے ذروں کو اپنی طرف نہ کھینچ رہا ہو اور دوسرے ذرے اسے اپنی طرف نہ پھینچ رہے ہوں لیکن ہم آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرانہیں جاتے ، ہم دیواروں کے ساتھ نہیں چمٹ جاتے ہم پہاڑوں کے ساتھ نہیں لگ جاتے۔اس لئے کہ زمین کی کشش عمودی طور پر ہمیں زیادہ قوت کے ساتھ اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔تو اس پہلو سے ہم بعینہ تعین کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کشش کے مقابل پر کون کون سی وہ قو تیں ہیں جو ہم پر بار بار اثر انداز ہوتی ہیں اور ہمارے قبلہ کو ٹیڑھا کرتی ہیں اور کیوں خدا کی کشش ان پر غالب نہیں آتی۔اس نقطہ نگاہ سے جب آپ نمازوں میں اپنے نفس کے تجزیے کے عادی ہو جاتے ہیں اور بار بار اللہ اکبر کی مدد سے اپنے اندرونی فسادات کی تعیین کرتے ہیں تو آپ کو اپنے اندر ایک نہیں بلکہ متعدد مخفی بہت نظر آئیں گے اور شرک خفی کی مختلف صورتیں اپنے وجود کے اندر دکھائی دینے لگیں گی۔پس اس صورت میں نماز ایک آئینہ بن جاتی ہے جو آئینہ خانے کا سا منظر پیدا کرتی ہے۔یعنی جس سمت میں آپ دیکھیں گے نماز کے آئینہ خانے میں آپ کو کوئی نہ کوئی مخفی بت، کوئی شرک کا دبا ہوا پہلو دکھائی دینے لگے گا اور اس کی تصحیح کرتے وقت آپ ہر کوشش کے بعد نسبتاً زیادہ موحد بنتے چلے جائیں گے، زیادہ خدا کے قریب ہوتے چلے جائیں گے۔پس یہ جو خدا کی جانب حرکت ہے یہ وہ مقبول چیز ہے جو کمزور انسان کی نماز کو قبولیت کے مقام تک پہنچاتی رہتی ہے۔اس لئے یہ خیال یہ وہم باطل ہے کہ ایک کمزور انسان کی نماز کلیپ رد کر دی جاتی ہے۔اس لئے اسے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر کوشش اور جدو جہد کے ساتھ انسان نماز پڑھتا ہے تو ہر خفیف سا فرق بھی جو پہلی حالت سے پڑتا ہے۔اس خفیف سے فرق کو بھی اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔وہ معمولی سی حرکت بھی جو غیر اللہ سے اللہ کی جانب کی جاتی ہے اسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهُ (الزلزال :۸-۹) کہ تم جانتے نہیں کہ خدا تعالیٰ کتنا لطیف اور خبیر ہے اور کتنا اپنے بندوں کو نواز نے والا ہے۔معمولی سے معمولی ، ذرہ سے ذرہ نیکی بھی جو تم کرتے ہو وہ بھی ضائع نہیں جاتی ، وہ بھی خدا کی راہ b