خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 978 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 978

خطبات طاہر جلد۴ 978 خطبه جمعه ۱۳؍ دسمبر ۱۹۸۵ء سے بڑا ہے اب فلاں کھیل تمہیں زیادہ بڑی لگنے لگی ہے۔دوستوں کی مجلس زیادہ بڑی محسوس ہورہی ہے۔تو نماز کا قبلہ درست کرنے کے لئے اللہ اکبر ایک حیرت انگیز کام دکھلاتا ہے لیکن اس کے لئے جس کی توجہ اللہ اکبر کے مضمون کی طرف رہے کم سے کم جب وہ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہوتا ہے۔اس وقت اللہ اکبر رکھنے کا ایک اور بہت اچھا فائدہ ہے، بہت عظیم فائدہ ہے کہ حرکت انسان کو سوچوں سے بیدار کر دیا کرتی ہے ، حرکت انسان کو ایک مخمصہ میں پھنسے ہوئے انسان کو اچانک جھنجھوڑ کر بیدار کرتی ہے ، ہلاتی ہے اور وہ بہترین وقت ہوتا ہے اسے سمجھانے کا کہ تم جانا کسی اور طرف چاہتے تھے جاکسی اور طرف رہے ہو۔پس اللہ اکبر کی تکرارا گر آپ سمجھ کر کریں تو نفسیاتی حالت بھی اس وقت ایسی ہوتی ہے کہ انسان اس کے اثر کو زیادہ قبول کر سکتا ہے۔پس جہاں تک اللہ اکبر کا تعلق ہے یہ نماز کا قبلہ درست کرتا ہے۔جہاں تک نماز کا تعلق ہے یہ انسان کا قبلہ درست کرتی ہے۔نمازی کا قبلہ درست کرتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ایک اور بڑا فائدہ نفس کے تجزیے کا حاصل ہو جاتا ہے۔ہر انسان نماز کے قبلہ نما کے ذریعہ یہ محسوس کر سکتا ہے کہ میری حقیقی توجہ کا مرکز کہاں تک خدا ہے اور کہاں تک دوسری خواہشات ہیں۔کس حد تک میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اہل ہوا ہوں اور کس حد تک نہیں ہوسکا۔پھر خیالات مختلف حالتوں میں پکڑے جائیں گے۔ہر اللہ اکبر کے وقت وہ شخص جس کی توجہ خدا کی طرف قائم نہیں وہ انسان اپنے خیالات کو مختلف حالتوں میں پکڑے گا اور اس وقت وہ صحیح اندازہ کرسکتا ہے کہ میری اندرونی شخصیت کیا ہے؟ کس حد تک میں خدا کا ہوں؟ کس حد تک میرے دعووں میں سچائی ہے؟ کتنی مجھ میں خامیاں ہیں اور کس نوع کی خامیاں ہیں؟ خدا کی راہ میں روکیں پیدا کرنے والے وساوس اور نفسانی شیاطین کون کون سے ہیں؟ ان کی شکلیں کیا کیا ہیں؟ اور ان کو درست کرنے کا انسان کو ایک بہترین موقع میسر آجاتا ہے کیونکہ جب دشمن پہچانا جائے اس وقت دشمن کو شکست دینا زیادہ آسان ہوتا ہے بہ نسبت ایسے دشمن کے جو نہ پہچانا جائے نہ پتہ چلے کہ کس سمت سے حملہ کر رہا ہے۔تو نمازیں قبلہ نما بھی ہیں اور دشمن کی تعیین کرنے میں بھی بہت مدد کرتی ہیں اور اس سلسلہ میں سب سے اہم کردار بار بار کی تکبیر ادا کرتی ہے۔پھر عمومی طور پر یہ بات ہر انسان کی فہم میں آجاتی ہے کہ جس چیز کی کشش زیادہ ہو وہ اس