خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 974
خطبات طاہر جلدم 974 خطبه جمعه ۱۳؍ دسمبر ۱۹۸۵ء دیتی ہیں۔یہ آیات جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں۔ان میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ الْمُنْفِقِينَ يُخْدِعُونَ اللهَ وَهُوَ خَادِعُهُمُ منافق انسان اللہ کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے مگر در حقیقت خدا کی تقدیر سے دھوکا دے دیتی ہے اور جس ذریعہ سے وہ خدا کو دھوکا دینا چاہتا ہے وہ ذریعہ اس پر الٹ پڑتا ہے۔وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلوةِ قَامُوا كُسَالَى " ان لوگوں کی ایک علامت یہ ہوتی ہے کہ جب بھی وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں سنتی اور کاہلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ان میں فروتنی نہیں پائی جاتی ، ان میں جوش اور ارادہ اور ذوق نہیں پایا جاتا۔يُرَاءُ ونَ النَّاسَ وہ لوگوں کو دکھاتے ہیں، ریا کاری کے جذبے کی خاطر نمازیں ادا کرتے ہیں۔وَلَا يَذْكُرُونَ اللهَ إِلَّا قَلِيلا اور جہاں تک یاد الہی کا تعلق ہے ان کی نماز میں عملاً یا دالبی سے خالی ہوتی ہیں۔مُذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذلِك وہ دو باتوں کے درمیان تذبذب میں پڑے رہتے ہیں۔یعنی دنیا اور خدا کے مابین لَا اِلى هَؤُلَاءِ وَلَا إِلى هَؤُلَاء نہ وہ ادھر کے رہتے ہیں نہ وہ ادھر کے رہتے ہیں۔نہ دنیا ہی کے ہوتے ہیں۔نہ خدا کے ہو جاتے ہیں اور جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اس کے لئے پھر کوئی حق پانے کی راہ نہیں پائے گا۔کوئی راستہ نہیں دیکھے گا جس کے ذریعہ وہ ہدایت پاسکے۔ان آیات میں جن نمازوں کے متعلق بڑا شدید انذار پایا جاتا ہے جب بعض مومن قرآن کریم کی ان آیات سے گزرتے ہیں تو لرز جاتے ہیں اور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اکثر انسانوں کی نماز میں کسائی کی حالت تو بہت کثرت کے ساتھ ملتی ہے۔خواہ ریا کا پہلو اس میں ہو یا نہ ہو لیکن ہلاکت کے جن کیڑوں کا ذکر ہے ان میں کسائی کا کیڑا یعنی ایسی حالت میں نماز پڑھتے ہیں کہ وہ کا ہلی اور ستی اور غفلت اور بے تو جنگی کا شکار ہو جاتے ہیں یہ تو بڑی کثرت سے عام ملتے ہیں اس لئے کیا ایسی نمازیں انسان کو فائدے کی بجائے نقصان تو نہیں پہنچائیں گی۔کیا بہتر نہیں ایسی نمازوں سے کہ انسان ان نمازوں کو ترک کر دے اور اس خطرے کی راہ سے کہ گزرے ہی نہ جہاں خود نمازیں انسان پر لعنتیں ڈال رہی ہوں۔یہ خیال درست نہیں ، یہ اندیشہ محض ایک وہمہ ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے کسائی کی حالت کویر آون کی حالت کے ساتھ باندھ کر ہر جگہ اس مضمون میں ایک ہی قسم