خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 973
خطبات طاہر جلدم 973 خطبه جمعه ۱۳؍ دسمبر ۱۹۸۵ء توجہ اور حضوری سے پڑھی جانے والی مقبول نمازیں ( خطبه جمه فرموده ۱۳ / دسمبر ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی: إِنَّ الْمُنْفِقِيْنَ يُخْدِعُونَ اللهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ ۚ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلوةِ قَامُوا كُسَالَى يُرَاءُونَ النَّاسَ وَ لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيْلًا مُذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَلِكَ لَا إِلَى هَؤُلَاءِ وَلَا إِلى هَؤُلَاءِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنُ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا (النساء: ۱۳۳ ۱۳۴) اور پھر فرمایا: سورۂ نساء کی آیت ۱۴۳ اور ۴۴ یہ دو آیات جو میں نے پڑھی ہیں ان میں بعض ایسی نمازوں کا ذکر ہے جو خدا کی بارگاہ میں قبولیت نہیں پاتیں اور رد کر دی جاتی ہیں۔پس قرآن کریم جہاں مقبول نمازوں کا تفصیل سے ذکر فرماتا ہے اور ان کی صفات کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔وہاں مرد و نمازوں کا حال بھی بہت کھول کر بلا شک وشبہ بڑی تفصیل سے بیان فرماتا ہے۔ان نمازوں میں سے جو رد کر دی جاتی ہیں جو فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہیں جن کے متعلق یہاں تک بھی فرمایا فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ (الماعون : ۵ ) ہلاکت ہو ان لوگوں کے لئے جو ایسی نمازیں پڑھتے ہیں۔یعنی نمازیں رحمت کی بجائے اپنے پڑھنے والے پر لعنت ڈالتی ہیں۔ان نمازوں کی تفصیل جہاں جہاں بھی ملتی ہے ان میں دو شرطیں بڑی نمایاں دکھائی