خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 969
خطبات طاہر جلدم 969 خطبه جمعه ۶ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء کرتے کہ ربّی فرمایا بنا نہیں فرمایا۔میرا رب عظیم ہے اور میرا کہنا جس طرح نَعبُدُ میں ہم کا تکم پایا جاتا ہے جمع کا تکلم ہے۔یہاں اس کو واحد میں منتقل کر دیا کہ میرا رب سب سے بڑا ہے یعنی إيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے گزرنے کے بعد اس کو اپنا ہی لیا ہے کہ اب تو میرا ہو چکا ہے۔اب یہاں بیچ میں سے باقیوں کو بھی ہٹا دیا ہے اور بار بار اس کی تکرار کہ میرا رب سب سے بڑا ہے۔اس میں اگر آپ میرے لفظ پر غور کریں تو اس میں محبت کا مضمون پیدا ہو جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم اس طرز تکلم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب میں بھی بار بار استعمال فرماتا ہے تیرا رب کہہ کر کئی موقعوں پر کہ کیا تیرا رب ایسا نہیں ، وہاں بھی اسی محبت اور پیار کا اظہار ہے اور پھر سجدہ میں دوبارہ یہ دونوں عشق کے مقامات ہیں ،حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق میں یہ تفصیل بیان کرہا ہوں۔جب آپ نماز میں جھکتے ہیں تو وہ ایک سپردگی کا عالم ہے، وہ ایک اظہار ہے کہ میں تیرے حضور عاجز ہو گیا ہوں اور تیرے سامنے گر رہا ہوں اور وہاں جو کلمات دہرائے جاتے ہیں وہ محبت کے کلمات ہیں اور اس کی انتہاء پھر سجدہ میں ہے وہاں پہنچ کر انسان یہ کہتا ہے سُبحَانَ رَبِّي الاغلى کیا بات ہے! میرا رب تو سب سے اعلیٰ ہے، اب خدا کا علو بھی اپنالیا اور خدا کی عظمت بھی اپنالی۔اور بار بار آپ یہ کہیں اس میں بوریت کا تو کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔کسی حالت میں بھی انسان اس کی تکرار سے اکتا نہیں سکتا۔جب کہتے ہیں کہ اللہ میرا ہے اور عظیم رب میرا ہے تو ہزار لاکھ کروڑ دفعہ بھی آپ کہتے چلے جائیں رب کی طرف, اچھے کی طرف منسوب ہونے میں ایک ایسی لذت ہے جو تکرار کے ساتھ ختم نہیں ہوا کرتی بلکہ اگر آپ غور سے تکرار کریں گے، ڈوب کر تکرار کریں گے تو یہ محبت بڑھے گی۔بہر حال یہ مضمون کہ نماز کو سوچ سمجھ کر اس حالت میں پڑھنا کہ اس میں لذت پیدا ہونی شروع ہو جائے بہت وسیع ہے لیکن چونکہ اب وقت زیادہ ہورہا ہے اس لئے اس خطبہ کو میں یہیں ختم کرتا ہوں۔آئندہ پھر کبھی توفیق ملے گی تو چند اور باتیں بھی بیان کروں گا لیکن ضروری نہیں ہے کہ یہ باتیں میں آپ کے سامنے بیان کروں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس تفصیل سے اس مضمون پر روشنی ڈال چکے ہیں اور ایسے ایسے عظیم الشان تجارب سے آپ گزرے ہوئے ہیں اور بعض دوسروں کے حال پر بڑی بصیرت کی نظر ڈال کر آپ نے ان کا مطالعہ کیا ہوا ہے کہ نماز کے مضمون کو