خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 963
خطبات طاہر جلدم 963 خطبه جمعه ۶ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء یہ جو مضمون ہے یہ تو بظاہر ڈرانے والا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آگ کا ایک اور مضمون بیان فرمایا ہے۔آگ کے دو پہلو ہیں۔ایک آگ وہ ہے جو عشق الہی کی آگ ہے اور وہ سوز و گداز پیدا کرتی ہے اور یہی آگ دوسرے جلانے کے معنی بھی رکھتی ہے یعنی گناہوں کو جلا دے اور غیر اللہ کی محبت کو جلا دے اور وہ موت وارد کر دے جس میں انسان سوائے خدا کے باقی سب کے لئے مرجاتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ڈرانے کے لئے یہ الفاظ استعمال نہیں فرمار ہے بلکہ نہایت ہی گہرے معنوں کی طرف متوجہ فرمارہے ہیں کہ اگر یہ محبت کی آگ زیادہ روشن ہو جائے ، اس کا الاؤ زیادہ بھڑک اٹھے، اس وقت پھر تمام غیر اللہ پر تمام غیر خواہشوں پر موت وارد ہو جاتی ہے کیونکہ وہ اس آگ میں جل جاتی ہیں۔یہ مقام بہت بلند اور بہت بعد کا مقام ہے لیکن اس کی جھلکیاں مومن آغاز سے ہی دیکھنے لگ جاتا ہے۔انتظار کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کیونکہ نفس امارہ کا یہ جو کلی طور پر جل جانا ، یہ یک دفعہ نہیں ہوا کرتا کہ ایک دم کسی چیز کو آگ میں جھونک دیا اور وہ جل کر خاکستر ہوگئی بلکہ جوں جوں آپ قریب جائیں گے وہ گرمی محسوس ہوگی اور بعض اعضاء پر اس گرمی کا زیادہ اثر پڑے گا اور بعض پر کم پڑے گا۔بعض زیادہ جلن محسوس کریں گے اور بعض زیادہ ذرا ٹھہر کر جلیں گے ان میں مقابلہ کی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔مثلاً بال فوراً جل جاتے ہیں۔جلد زیادہ برداشت کر لیتی ہے۔جلد جل جاتی ہے پھر گوشت کی باری آتی ہے پھر ہڈیاں جلتی ہیں اور زیادہ مقابلہ کرتی ہیں اسی طرح انسان کے گناہوں کا بدن ہے اس کے بھی مختلف مراتب میں جلنے کے وقت آتے ہیں۔مختلف مقامات پر مختلف قسم کے گناہ خاکستر ہوتے ہیں اور یہ ایک لمبا کام ہے لیکن نتائج شروع ہی سے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ نماز پڑھیں اور انتظار کریں کہ کب میں وہ مرد کامل بنوں جس کے بعد میرے گناہ ایک دم جلیں گے۔اگر آپ کو ہر روز گناہ جلنے کی بو نہیں آتی ، اگر محسوس نہیں ہوتا کہ بدی کا کچھ حصہ مجھ سے غائب ہو رہا ہے تو پھر وہ نماز گرمی پیدا کرنے والی نماز نہیں۔یہ بات دراصل محبت الہی کی آگ کے دو پہلو ہیں۔ایک طرف وہ گداز پیدا کر کے نمو پیدا کرتی ہے۔ایک نئی روحانی زندگی عطا کرتی ہے ، نئی جلا بخشتی ہے۔دوسری طرف انسان کے بعض پہلوؤں کے اوپر موت وارد کر دیتی ہے۔