خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 944
خطبات طاہر جلدم 944 خطبه جمعه ۲۹/ نومبر ۱۹۸۵ء کا مقام کہلاتا ہے۔کوئی جو واقف حال نہ ہو جو ان گلیوں سے گزرا نہ ہو ، جن کو ان رستوں سے پوری واقفیت نہ ہو اس قسم کے فقرے لکھ ہی نہیں سکتا۔فرماتے ہیں: ایک لذت رکھ دی ہے جس سے یہ تعلق قائم رہتا ہے۔جیسے لڑکے اور لڑکی کی جب شادی ہوتی ہے اگر ان کے ملاپ میں ایک لذت نہ ہو تو فساد ہوتا ہے۔ایسے ہی اگر نماز میں لذت نہ ہو تو وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔دروازہ بند کرکے دعا کرنی چاہئے کہ وہ رشتہ قائم رہے۔عجیب کلام ہے فصاحت و بلاغت کا جس تعلق کی مثال دی ہے اس کے بعد پھر عبادت میں لذت ڈھونڈنے کے لئے کیسا پیارا کلام ہے۔وو دروازہ بند کر کے دعا کرنی چاہئے کہ وہ رشتہ قائم رہے اور لذت پیدا ہو۔جو تعلق عبودیت کار بوبیت سے ہے وہ بہت گہرا اور انوار سے پر ہے جس کی تفصیل نہیں ہوسکتی۔جب وہ نہیں ہے تب تک انسان بہائم ہے۔اگر دو چار دفعہ بھی لذت محسوس ہو جائے تو اس چاشنی کا حصہ مل گیا لیکن جسے دوچار دفعہ بھی نہ ملا وہ اندھا ہے وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ - (بنی اسرائیل :۷۳) ( ملفوظات جلد ۳ صفحه ۵۹۲) حیرت ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فرماتے ہیں کہ میرے کلام کو جو تین دفعہ نہیں پڑھتا اس میں تکبر پایا جاتا ہے تو اس کا یہ اصل مفہوم ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ تم ایک دفعہ سرسری نظر سے میرے کلام سے گزر جاؤ گے تم اس کے مطالب کو پالو گے۔تمہیں جدو جہد کرنی پڑے گی ،محنت کرنی پڑے گی اور بار بار غور کے ساتھ پڑھنا پڑے گا تب تم اس کی کنہ کو پاؤ گے ورنہ کلام کے بہت سے معارف تمہاری نظر سے اوجھل رہ جائیں گے۔یہاں ایک عجیب طرز بیان ہے جس نے کمزوروں کے لئے بھی ایک نجات کی راہ دکھا دی ہے۔ایک عارف باللہ جس کی ساری نمازیں درست ہو چکی ہوں، جو ہر نماز کے ہر حصے سے لذت پاتا ہو۔جب وہ ذکر کرتا ہے کہ نماز یہ ہے اور نماز وہ ہے اور بڑے لطف اٹھا اٹھا کر بیان کرتا ہے تو ایک