خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 943
خطبات طاہر جلدم 943 خطبه جمعه ۲۹/ نومبر ۱۹۸۵ء نہیں فرمایا ہے کہ رب کا عبد کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے نماز قائم کی گئی ہے فرمایا رب کے ساتھ عبد کا ایک دائمی تعلق موجود ہے پہلے سے۔اس رشتے کو زندہ رکھنے کے لئے نماز قائم کی گئی ہے اگر آپ نماز چھوڑ دیں گے تو آپ کا وہ تعلق کٹ جائے گا جو ہونا چاہئے ، جو ہمیشہ سے ہے جو ایک فطری چیز ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ رب سے عبد کو تعلق نہ ہو جس نے پیدا کیا اس کا ایک گہرا تعلق قائم ہوجاتا ہے جیسے ماں کا بچے سے تعلق قائم ہو جاتا ہے لیکن بعض ایسے محرکات ہیں، ایسے بعد میں پیدا ہونے والے واقعات ہیں جو بعض دفعہ ماں کا بچے سے تعلق کاٹ دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا اسی طرح رب اور بندہ کا ایک دائمی تعلق ہے ، وہ اپنی جگہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا لیکن اگر عبادت نہ کی جائے یا خدا ہمیں عبادت نہ سکھاتا تو اس تعلق میں رخنہ پڑ جا تا اور رفتہ رفتہ ہم اس تعلق سے غافل ہو جاتے۔“ اس رشتہ کو قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے نماز بنائی ہے اور اس میں ایک لذت رکھ دی ہے۔یہ بھی ایک عجیب عارفانہ کلام ہے۔لذت رکھ دی ہے“ کا تو مطلب یہ ہے کہ جونماز پڑھے گا اسے لذت آنی چاہئے یعنی لذت آپ نماز میں زبردستی پیدا نہیں کر سکتے یا خود کوشش کر کے لذت پیدا کرنے کا نام نماز نہیں ہے بلکہ نماز میں لذت ہے اور اگر آپ کو نہیں ملتی تو آپ میں کوئی رخنہ ہے آپ اپنی کمزوری کو دور کریں، اپنے مذاق کو درست کریں۔اگر ایک اچھے کھانے میں کسی کو لذت محسوس نہ ہو تو آپ یہ نہیں کہیں گے کہ اس کھانے کو دوبارہ پکا ؤ اور اس میں لذت پیدا کرو۔آپ یہ کہیں گے کہ اس کھانے میں لذت ہے لیکن تم بیمار ہو تم اپنا علاج کرو تمہارا منہ کڑوا اور کسیلا ہو چکا ہے۔تو یہ جو فقرہ ہے یہ بھی ایک انتہائی عارفانہ کلام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فطرت میں ڈوبنے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عظیم مقام کا پتہ چلتا ہے اور یہ کھڑکیاں ہیں جن کے ذریعہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات میں داخل ہو کر آپ کی اس روحانی زندگی کا کچھ اندازہ کر سکتے ہیں جس نے آپ کو وہ مقام عطا کیا ہے جو آج امام الزمان