خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 922
خطبات طاہر جلد چہارم 922 خطبه جمعه ۲۲/نومبر ۱۹۸۵ء آنے والا گروہ ہے۔یہاں راكِعُونَ کا ترجمہ میں نے تو حید خالص رکھنے والے اور شرک نہ کرنے والے کیا ہے حالانکہ بظاہر رکوع کا معنی تو رکوع کرنا ہے اور راکع کا مطلب ہے وہ جو رکوع کرے لیکن عرف عام میں اردو میں یہی معنی عام چونکہ مستعمل ہیں اس لئے عربی میں جو دوسرے معنی ہیں ان کی طرف دھیان نہیں جاتا ور نہ عربی لغت کے لحاظ سے رکع کا معنی خالص تو حید ہی ہے اور ایسی تو حید جس میں شرک کا کوئی شائبہ ہی نہ پایا جاتا ہو اور چونکہ پہلے نماز کا ذکر ہو چکا ہے اس لئے نماز کے ایک جز کو دہرانے کا کوئی معنی نہیں یہ موقع اور محل کی مناسبت سے یہاں راکعون کا معنی شرک نہ کرنے والے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں اس مضمون کی وضاحت ہوگئی اور اس تعلق کی وضاحت ہوگئی۔فرمایا مُنيُبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَاَقِيْمُوا الصَّلوةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (الروم :۳۲) کہ خالصہ اللہ کی طرف جھک جاؤ، اس کا تقویٰ اختیار کرو، نماز کو قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہو۔نماز تو وہی قائم کرتا ہے جو مشرکوں میں سے نہیں ہوتا۔تو دونوں جگہ نماز کے قیام کے مطا بعد شرک کی نفی کرنے سے مراد یہ ہے کہ بسا اوقات نمازوں میں بھی شرک کے مخفی پہلو موجود رہتے ہیں اور اس ضمن میں میں بعد میں گفتگو کروں گا لیکن اس سے پہلے جو ولایت کا مفہوم یہاں بیان کیا گیا ہے پہلے اس کے متعلق میں کچھ وضاحت کرنی چاہتا ہوں۔إنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا یہ آیت اپنے اندر ایک بہت ہی گہری حکمت کا کلام بھی رکھتی ہے اور ایک اخفاء کا پردہ بھی جو اس حکمت کو اپنے اندر لیٹے ہوئے ہے۔اخفاء کا پردہ یہ ہے کہ فرمایا کہ تمہارا کوئی دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ جو ایمان لائے۔تو پھر مخاطب کون ہیں ؟ بظاہر تو یہ تین الگ الگ چیزیں ہیں۔جس کے دوست ہیں وہ الگ ذات معلوم ہوتی ہے اور جو دوست ہیں وہ الگ ہیں۔جو مدد کرنے والے ہیں وہ الگ ہیں جن کی مدد کی جاتی ہے وہ الگ ہیں لیکن تخاطب کی طرز یہ ہے کہ مومنوں ہی کو مخاطب کیا گیا اور مومنوں ہی کو یہ کہا گیا کہ اللہ اور رسول اور مومن تمہارے ولی ہیں۔پھر ایک اور خیال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ ولی ہے تو کیا کافی نہیں؟ اور اگر ذکر ہونا چاہئے تھا تو خدا اور رسول کا ذکر اکٹھا ہو جاتا ،مومنوں کی ولایت کا کیوں