خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 908 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 908

خطبات طاہر جلد ۴ 908 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء یسے شخص کی بدمزہ ہو جاتی ہے جسے ہر طرف سے نصیحت مل رہی ہو۔اسے کسی طرح اپنی بدی کا مزہ نہیں آتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ بدی Enjoy کرنے کے لئے ،اس کا لطف اٹھانے کے لئے بھی معاشرہ کی دخل اندازی نہ ہو زیادہ دلچسپ ماحول میسر آتا ہے۔چنانچہ جن معاشروں میں بدیاں خوب لذت کے ساتھ مگن ہو کر کی جاتی ہیں اس معاشرہ کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے میں بالکل دخل نہیں دیتے ، ایک دوسرے کو روکتے نہیں ہیں۔چنانچہ جہاں جہاں جس جس معاشرہ میں بدی کی لذت پائی جاتی ہے وہاں یہ دوسرا پہلو بھی ضرور موجود ہوتا ہے۔یورپ آپ کے سامنے پڑا ہے، امریکہ آپ کے سامنے ہے دیگر قوموں میں بھی صرف یورپ امریکہ کا اب سوال نہیں رہا۔جن کو پسماندہ قومیں کہتے ہیں ان میں بھی یہ بات پھیل گئی ہے کہ بدی کے مزے لوٹو لیکن اس شرط کے ساتھ کہ کوئی دوسرا اس میں دخل نہ دے۔کسی کا آپ کو کچھ کہنے کا کوئی حق نہیں۔کیوں اس بات کی احتیاط کی جاتی ہے؟ اس لئے کہ بدی کا مزہ ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے اگر کوئی دوسرا کہنا شروع کر دے کہ آپ نے نہیں کرنا۔یہاں تک کہ آدمی بیزار ہو جاتا ہے کہتا ہے دفع کرو اس چیز کو۔ہر طرف سے لوگ یہ آواز اٹھا رہے ہوتے ہیں کہ دیکھیں آپ یہ کام نہ کریں، آپ یہ کام نہ کریں۔آپ یہ کام نہ کریں۔چنانچہ قرآن کریم جب فرماتا ہے۔فَذَكَرُ انُ نَفَعَتِ الذِّكْرُى (الاعلى: ۱۰) تو اس کا ایک یہ بھی معنی ہے۔دسر میں شدت بھی پائی جاتی ہے۔کثرت کے ساتھ نصیحت کرو ہر طرف سے نصیحت کی آواز اٹھنی چاہئے۔اور بڑے زور کے ساتھ اٹھنی چاہئے۔جب تم کرو گے تو لازماً اس کا اثر پڑے گا۔یہ ہو نہیں سکتا کہ معاشرہ میں ہر طرف آواز اٹھنی شروع ہو جائے اور وہ آواز بے اثر جائے۔پردہ ہو یا کوئی دوسری ایسی نیکی ہو جس سے بعض طبقے محروم رہ رہے ہیں ان کو دوبارہ اس نیکی پر قائم کرنے کے لئے قول سدید کا اختیار کرنا اشد ضروری ہے۔آپ ان کے متعلق باتیں کرتے ہیں لیکن ان تک نہیں پہنچاتے۔جن تک پہنچاتے ہیں ان کو بد بنانے کے لئے پہنچاتے ہیں۔معاشرہ میں اور گند بھرنے کے لئے پہنچاتے ہیں۔اپنی زبان کے چسکے کے لئے بظاہر آپ نے ایک نیکی کا کام پکڑا ہوا ہے جو سارے معاشرے کو تباہ کر دے گا۔اس لئے وہاں ستاری سے کام لینا چاہئے بجائے