خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 907 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 907

خطبات طاہر جلد ۴ 907 خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۸۵ء ہے اس تک بات پہنچاؤ۔یہ مطلب تو نہیں کہ بے تعلق جگہوں پہ بات پہچانی شروع کرو۔ہر طرف تیر چلے سوائے نشانے کے اور بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ مہینوں گزر جاتے ہیں وہ بدی بڑھ رہی ہوتی ہے اس تک پہنچ کر اسے ہمدردی کے ساتھ نصیحت کرنے والا کوئی نہیں ملتا اور سارے معاشرے میں یہ باتیں شروع ہوتی ہیں کہ دیکھو فلاں کی بیٹی ہے۔فلاں ہے، فلاں ہے، فلاں عہد یدار سے اس کا تعلق ہے اور اس طرح بے حیائی کر رہی ہے، اسے کوئی نہیں روکتا۔نتیجہ اس کا دو ہر انہیں بلکہ کئی گنا زیادہ گناہ ایسی بات کرنے والے کو ہورہا ہوتا ہے۔اول تو جس مقصد کی خاطر نصیحت ہونی چاہئے یا تنقید ہونی چاہئے اس مقصد کا اس تنقید سے کوئی بھی تعلق نہیں رہتا۔دوئم معاشرہ میں مایوسی پیدا ہوتی ہے، فحشاء پھیلتی ہے، لوگ یہ ظن کرنے لگتے ہیں کہ بعض عہد یدار دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں اپنی بچیوں کو نصیحت نہیں کرتے۔دوسروں کے او پر باتیں کرتے ہیں اگر وہ کرتے ہوں اور اپنوں کی ان کو کوئی فکر نہیں اور یہ جو تبصرہ ہے اگر درست بھی ہو تو جو برائی میں ملوث ہے نہ اس کو پہنچ رہا ہے نہ اس عہدہ دار کو پہنچ رہا ہے جس کے متعلق باتیں ہو رہی ہیں اور جن تک پہنچتا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہاں پھر کھلی چھٹی ہے، اگر یہ ہوتا ہے تو پھر اسی طرح چلے پھر ہم کیوں کریں اس طرح۔گویا کہ حسن کا نمونہ پکڑنے کی بجائے بدی کا نمونہ پکڑنے کا رحجان معاشرہ میں پھیلنے لگتا ہے اور یہاں بھی چونکہ نصیحت قول سدید سے ہٹ گئی ہے اس لئے دیکھ لیجئے کہ اچھائی کی بجائے برائی پیدا کر دی۔معاشرہ سے خرابی دور کرنے کی بجائے اس میں ایک بدی کا اضافہ کر دیا بلکہ کئی بدیوں کا اضافہ کر دیا اور غیبت کے نتیجے میں جو ایک بدی کا الگ گناہ ہے وہ بھی کمایا جاتا ہے۔تو نصیحت سے قول سدید کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ کسی پہلو سے کسی صورت میں بھی اس کو آپ بھلا نہیں سکتے۔اگر بھلا ئیں گے تو شدید نقصان پہنچے گا۔جس شخص سے تعلق ہے بات کا سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس تک پہنچائی جائے اور پہنچائی اس طریق پر جائے کہ وہ یہ نہ سمجھے کہ کوئی شریکے کا غصہ اتار رہا ہے، مجھ سے کوئی اور بدلہ اتارا جارہا ہے یا نیچا دکھایا جارہا ہے۔ایک دو تین چار پانچ جتنی دفعہ بھی ممکن ہو کوئی شخص اس کو ملے اور محبت اور پیار اور ادب کے ساتھ اس کو علیحدگی میں بتائے کہ آپ کے اندر یہ کمزوری ہے جو اچھی بات نہیں اور ہر ایک اس طرح کرنے کی کوشش کرے جو بھی اس کے ماحول میں بستا ہے۔تو پھر دیکھیں کہ معاشرے کی طرف سے کتنا عظیم دباؤ پیدا ہو جاتا ہے۔زندگی