خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 901 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 901

خطبات طاہر جلد ۴ 901 خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۸۵ء دقتیں ان کو پیش آتی ہیں ان سے مطلع رکھتے ہیں اس لئے مجھے نسبتاً زیادہ آپ کے مقابل پر سہولت حاصل ہے کہ میں اندازہ کر سکوں کہ ہماری جماعت میں کارکنان کس رنگ میں نصیحت کرتے ہیں اور کیسی کیسی مشکلات ان کو در پیش ہیں۔پہلی مشکل جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خود ان کی ہی پیدا کردہ ہے۔وہ بات میں بعض دفعہ بیچ رکھتے ہیں ، بعض دفعہ سختی کرتے ہیں ، بعض دفعہ طعن پایا جاتا ہے، بعض دفعہ نیکی کا مخفی تکبر ہوتا ہے۔ایک کمزور انسان کو اس کی کمزوری پر مطلع کرتے وقت ایسا انداز پایا جاتا ہے جس سے گویا یہ جتانا مقصود ہو کہ تم میں یہ بات ہے اور مجھ میں نہیں۔تم مالی قربانی اس رنگ میں پیش کرتے ہو، میں اس رنگ میں پیش کرتا ہوں، میں خدمت دین کر رہا ہوں تم خدمت دین کو ٹھکرانے والے ہو۔تم مجھے گھر پر پھیرے ڈلواتے ہو حالانکہ میں خدا کی خاطر خدا کے نام پر یہ کام کرنے کے لئے تمہارے پاس آیا تھا۔یہ اور اس قسم کی بہت سی باتیں۔ان میں سے ہر بات قول سدید سے ہٹی ہوئی ہے۔مثلاً یہ کہنا کہ میں تو خدا کی خاطر تمہارے گھر کے پھیرے ڈالتا ہوں اور تم آگے سے یہ سلوک مجھ سے کر رہے ہو تمہارا کیا حال ہے۔یہ قرآن کریم کے اصول کے مطابق ایک ٹیڑھی بات ہے جس کا حقیقت حال پر اگر آپ غور کریں تو اصلاح سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ گناہگار کر نے والی بات ہے۔اسی مضمون کو قرآن کریم ایک دوسری جگہ یوں بیان کرتا ہے قُلْ لَا تَمُنُوا عَلَى إِسْلَامَكُمْ (الحجرات : ۱۸) که ان سے کہہ دے کہ مجھ پر اپنا اسلام نہ جتایا کرو۔اگر چہ یہ دوسرا رخ ہے لیکن بنیادی طور پر کمزوری وہی ہے یعنی بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ پر بھی اپنا اسلام جتایا کرتے تھے۔کمزوری وہی ہے جب یہ حد سے زیادہ بڑھ جائے تو یہ بھیا نک شکل بھی اختیار کر لیتی ہے کہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ بتایا کہ ہم خدا کی خاطر، یہ یہ نیکیاں کرتے ہیں آپ کی خاطر یہ یہ نیکیاں کرتے ہیں معاشرہ نے ہم سے کیا سلوک کیا ہے۔آپ نے ہم سے کیا سلوک کیا ہے یہ ہمارے حقوق ہیں جو نہیں دیئے جار ہے۔اس قسم کی باتیں بعض احمق اور جاہل اس زمانے میں بھی کیا کرتے تھے اور خود حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے یہ باتیں کہا کرتے تھے اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت میں اتنی حیا تھی کہ یہ سننے کے باوجود بھی جواب نہیں دیتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف سے جواب دیا اور حکماً فرمایا