خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 891
خطبات طاہر جلدم 891 خطبه جمعه ۸/نومبر ۱۹۸۵ء کہیں بھی کوئی مذہب آیا ہے۔تمام قرآن کریم کے بیان کے مطابق نماز پر ہر نبی زور دیتا رہا ہے۔نماز حفاظت کرتی ہے۔نماز ایک ساتھ رہنے والا مربی ہے۔جس شکل میں بھی کسی قوم نے کبھی خدا کی عبادت کی تھی ہر نبی نے سب سے زیادہ اس عبادت پر زور دیا تھا اور ہے ہی مقصود وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: ۵۷ ) میں نے تو جنوں اور انسانوں کو پیدا ہی نہیں کیا سوائے اس کے کہ وہ میری عبادت کریں۔اور عبادت کا معراج نماز ہے یعنی عبادت کی جو رسمی شکل ہے ظاہری نماز ہے اور اس کو پھر قائم کر کے پھر اس کو بھرنا ہے ہم نے کئی طریق سے اس پر غور کرنا ہے کہ کس طرح انہیں زیادہ حسن پیدا کرنا ہے، سمجھانا ہے۔ابھی تو آپ میں سے یعنی شاید آپ کو کبھی خیال نہ آیا ہو لیکن اکثریت ایسی ہے جن کو یہ نہیں پستہ کہ میرے بچوں کو نماز ترجمہ کے ساتھ آتی بھی ہے کہ نہیں اور نہ پتہ ہے نہ خیال آیا ہے اور بعض لوگ دوسروں کو ڈھونڈتے ہیں۔جن کو خیال آتا ہے وہ کہتے ہیں جی ہمارے پاس کوئی نماز سکھانے کا انتظام نہیں ہے اس لئے ایک مربی بھیجا جائے۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ مربیوں کا کام ہے نماز سکھانا اور پڑھانا حالانکہ قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ والدین کا کام ہے۔گھر سے شروع کرو اور پھر مستقل مزاجی کے ساتھ نماز کو قائم کر کے دکھا ؤ وہاں۔یہ عجیب سوال ہوتا ہے میں حیرت سے دیکھتا ہوں اگر تمہیں خود نماز نہیں آتی تو پہلے اپنی فکر کرو، بچوں کی کیا بات شروع کی ہے پہلے خود تو نماز سیکھو اور اگر خود نماز آتی ہے تو مربی کا کیا انتظار کرتے ہو۔جو اولین مقصد ہے انسانی تخلیق کا اس مقصد سے محروم ہور ہے ہو محروم رہ رہے ہواورا نتظار کر رہے ہو کوئی آئے گا تو وہ ہمیں سکھا دے گا۔اتنے مربی نہ جماعت کے پاس ہیں نہ یہ ممکن ہے کہ مربی دوسرے سارے کام چھوڑ دیں۔جتنے ہیں اگر وہ سارے کام دوسرے چھوڑ دیں اور یہی کام شروع کریں تو تب بھی وہ پورے نہیں ہوں گے۔اس لئے قرآن کریم بڑا حکیمانہ کلام ہے۔وہ واقعاتی بات کرتا ہے خیالی اور فرضی بات نہیں کرتا۔یہ ذمہ داری مربی پر نہیں ڈالی بلکہ ہر خاندان کے سربراہ پر ڈال دی ہے کہ تم کوشش کرو، تمہاری ذمہ داری ہے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق بھی یہی بتایا کہ بڑی خوبیوں کا مالک تھا ، وہ اپنی اولاد کو اپنے اہل و عیال کو مستقل مزاجی کے ساتھ نماز کی طرف توجہ دلاتا رہتا تھا۔پس جماعت احمدیہ میں سب سے اہم کام اس وقت عبادت کو قائم کرنا ہے نماز کو نہ صرف