خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 890
خطبات طاہر جلد۴ 890 خطبه جمعه ۸/نومبر ۱۹۸۵ء چاہئے مگر چند دن کے اندر اندر وہ ارادے بھی سو جاتے ہیں ، وہ دل کے ولولے بھی بیٹھ جاتے ہیں عام سی کیفیت ہو جاتی ہے، ہاں یہ ہوتا رہتا ہے پھر آواز پڑے گی پھر ایک کوشش کر لیں گے اور وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا کا مضمون پھر جو کہ اس وقت سمجھ آتا ہے کیا معنی رکھتا ہے، کیسا عظیم الشان کلام ہے، کیسی گہری انسانی نفسیات پر نظر رکھنے والا خدا ہے جس کا یہ کلام ہے کہ بظاہر ایک آرام سے حکم دے دیتا ہے چھوٹا سا اور معلوم ہوتا ہے اس میں کیا ہے بچوں کو نماز کے لئے ہی کہنا ہے وہ ہم کہہ دیں گے۔لیکن فرمایاوَ اصْطَبِرُ عَلَيْهَا خبر دار ! یا د رکھنا یہ آسان کام نہیں ہے۔مستقل مزاجی کے ساتھ روزانہ کہتے چلے جانا بہت ہی مشکل کام ہے۔ویسے ہی طبیعت تھک جاتی ہے ایک بات کہتے کہتے اور پھر روزانہ اپنے بچوں پر نظر رکھنا اور ان کو سوتے ہوئے رحم کی نگاہ سے دیکھنا ان معنوں میں کہ ان کے آرام میں مخل ہوں اور یہ ان پر رحم ہورہا ہو یہ کوئی آسان بات تو نہیں ہے۔اپنی بیویوں کو ہمیشہ توجہ دلاتے رہنا، بار باران پر نظر رکھنا اور پھر روزانہ اس کام میں مشغول رہنا یہ اتنا مشکل کام ہے آپ کر کے دیکھیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ کیوں قرآن کریم نے اس کی طرف توجہ دلائی۔نظام جماعت کے مختلف حصوں سے مختلف تنظیموں سے میرا بڑا گہراتعلق رہا ہے۔بچپن میں اطفال الاحمدیہ میں ، پھر خدام الاحمدیہ میں ، پھر انصار اللہ میں اور خصوصاً نماز کے معاملہ میں خدا تعالیٰ مجھے توفیق عطا فرما تا رہا ہے کہ ہر جگہ کچھ نہ کچھ کوشش کروں اور میں نے یہ دیکھا ہے کہ ہمارے اچھے سے اچھے کارکن بھی صبر کے لحاظ سے ابھی بہت زیادہ محروم تو نہیں کہنا چاہئے مگر ان میں گنجائش بہت موجود ہے کہ وہ اس حالت کو بہتر کریں۔صبران معنوں میں کہ مستقل مزاجی بھی صبر کا ایک حصہ ہے صبر کا مضمون بہت وسیع ہے۔تو استقلال کے لحاظ سے بھی بہت کمی واقعہ ہے۔ہمارے اچھے اچھے کارکن بھی اچھا کام جوش کے ساتھ چند دن کر لیتے ہیں اور اس کے بعد پھر آہستہ آہستہ تھک کر چھوڑ دیتے ہیں اور نماز وہ آخری چیز ہے جس سے آپ کو تھکنا چاہئے۔مطلب یہ ہے کہ اس میں آپ کو تھکنے کی کوئی گنجائش نہیں۔تمام قرآن میں سب سے زیادہ زور نماز پر ہے۔قرآن کریم میں زکوۃ سے پہلے صلوۃ ہے اور زکوۃ کا مضمون بھی پھر آگے بہت وسعت اختیار کر جاتا ہے، اس کی طرف انشاء اللہ آئندہ توجہ دلاؤں گا لیکن ہر ایمان کے بعد سب سے پہلے صلوٰۃ کا ذکر ہے اور تمام دنیا کے مذاہب میں جہاں