خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 879
خطبات طاہر جلدم 879 خطبه جمعه یکم نومبر ۱۹۸۵ء میں پہنچے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ تکلیف کا زمانہ ختم ہی نہیں ہوگا، ایک عذاب محسوس ہوتا ہے اور جب وہ گزرجاتی ہے تو پھر ہنس ہنس کر ان باتوں کو یاد کرتے ہیں کہ یہ وقت بھی گزرا تھا اور عجیب بات ہے کہ دیر کے بعد جب آپ مڑ کے دیکھتے ہیں تو جو خوشی کا زمانہ تھاوہ چھوٹا نظر آتا ہے اور جونم کا زمانہ تھاوہ لمبا دکھائی دیتا ہے۔جو خوشی کا زمانہ تھا اس کی یاد میں روتے ہیں اور جو غم کا زمانہ تھا اس کی یاد میں ہنستے ہیں بالکل الٹ بات پیدا ہو جاتی ہے۔تو تاریخ ہمارے زاویہ نظر کو بدلا دیتی ہے بلکہ بالکل الٹا دیتی ہے۔پس تاریخ پڑھتے ہوئے جو باتیں آپ محسوس کرتے ہیں وہ اور طرح محسوس کرتے ہیں اور جب ان حالات میں سے خود گزرتے ہیں تو ان باتوں کو اور طرح محسوس کرتے ہیں۔پس یہ ایک سال یا دو سال یا تین سال جتنی بھی خدا کی تقدیر ہے اس پر راضی رہیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ سے صبر سیکھیں آپ کا نمونہ پکڑیں اور تو کل کریں۔بالکل یہی الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ہوا ہے اور اس کیفیت میں ہوا ہے جب آپ نے اپنے آپ کو حضرت علی کے طور پر دیکھا ( تذکرہ صفحہ: ۱۶۹ ) اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت رابعہ میں ایسا زمانہ آنے والے تھا کیونکہ یہ حضرت مسیح موعود کا ہی زمانہ ہے۔آپ کو حضرت علی کی صورت میں دکھایا جانا اور پھر یہ الہام ہونا بتاتا ہے کہ آپ کو یہ خبر دی گئی تھی کہ تمہارے زمانے میں جب چوتھی خلافت ہو گی پھر اس قسم کے حالات ہوں گے اور لازماً تم لوگوں کو صبر کرنا پڑے گا اور لازما توکل سے کام لینا ہوگا اور اگر ایسا کرو گے وَكَفَى بِاللهِ وَكِيلًا پھر تم اللہ تعالیٰ کو بہترین وکیل پاؤ گے۔اس سے بہتر کوئی ذات نہیں ہے جس پر تو کل کیا جا سکے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو خوشخبری ہے وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِاَنَّ لَهُمْ مِنَ اللهِ فَضْلًا كَبِيرًا کہ اے محمد ! ان مومنوں کو خو شخبری دے دے ان کے لئے بہت ہی عظیم فضل خدا تعالیٰ کے ہاں مقدر ہے۔پس وہ خوش خبری جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مومنین کو دی تھی وہی آپ کے غلام صادق آپ کے کامل غلام اور روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے خدا تعالیٰ نے آپ کو بھی دی ہے اور وہ خوشخبری میں آپ کو پہنچا تا ہوں کہ صبر کرنے والوں کا صبر کبھی ضائع نہیں جائے گا۔تو کل کرنے والے اپنے خدا کو بہترین وکیل پائیں گے۔پس ہمت اور حوصلہ اور صبر اور توکل اور دعاؤں کے ساتھ اس وقت کو کاٹیں اور یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو