خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 857 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 857

خطبات طاہر جلدم 857 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۸۵ء نہیں۔بہر حال آنحضرت ﷺ کے زمانے میں لوگ اس مضمون کو یہاں تک پہنچاتے رہے کہ تُخْفُوهَا کا مضمون ایسا کامل ہو جائے کہ جس شخص کو دیا جا رہا ہے اس کو بھی پتہ نہ لگے مگر بہر حال اکثر اوقات اکثر صورتوں میں جس کو دیا جاتا ہے اس کو تو پتہ چل جاتا ہے۔چونکہ اللہ جانتا ہے کہ یہ شخص اخفا چاہتا ہے اور کسی بدلہ کی تمنا نہیں رکھتا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس شخص کے اس پہلو کی حفاظت فرما دی جب یہ فرمایا کہ فَاِنَّ اللهَ يَعْلَمُهُ " کہ اللہ تعالیٰ اس کے سارے پہلوؤں کو جانتا ہے اس لئے تم اتنا بھی تردد نہ کیا کرو کہ اخفاء میں حد ہی کر دو اور حد اعتدال سے گزر جاؤ۔تمہاری نیت چاہئے اگر تم چاہتے ہو کہ ریا کاری نہ ہو، اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کی خاطر کسی کو دیا جائے تو اپنی نیت کو پاک اور صاف کر لو، پھر اگر کسی کو پتہ بھی چل جائے تو تمہاری قربانی اخفاء کے پردے میں ہی رہے گی یعنی خدا تعالیٰ جن قربانیوں کو مخفی فرماتا ہے اسی شمار میں تمہاری قربانی بھیگر دانی جائے گی۔وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيَّاتِكُمْ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری برائیوں کو دور کرتا ہے۔جب یہ تین صفات اکٹھی پڑھی جائیں تو اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ انصار الی اللہ کون ہیں اور غیر انصارالی اللہ کون ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو ظالموں کو نصیب نہیں ہوا کرتے۔ساری دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں اللہ کے نبیوں کے سوا اس قسم کے خرچ کرنے والے کسی کو نصیب نہیں ہوا کرتے۔وہ جب کھل کر دیتے ہیں تو اس لئے کھل کر دیتے ہیں کہ قومی قربانیوں میں حصہ لینا چاہتے ہیں اور اخفاء ان کے لئے ممکن نہیں ہوتا اور اس لئے بھی کھل کر دیتے ہیں تا کہ دوسرے لوگوں میں تحریک پیدا ہو اور قوم میں قربانی کا جذبہ پھیلے۔صرف اسی پر انحصار نہیں کرتے ، پھر وہ چھپ کے بھی دیتے ہیں مخفی طور پر بھی دیتے ہیں تاکہ ان کے دل پر کسی قسم کا زنگ نہ لگ سکے اور ان کی نیتیں دونوں پہلوؤں سے صاف ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو تو اس کا ایک نتیجہ ظاہر ہوگا وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيَّاتِكُمْ کہ انصار جو فی سبیل اللہ خرچ کرنے والے ہیں ان کا خرچ و ہیں نہیں رک جایا کرتا بلکہ اس کے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔اس دنیا میں بھی نتائج پیدا ہوتے ہیں اور رضائے باری تعالیٰ کے علاوہ بھی ایک نتیجہ یہ ہے کہ ان کی بدیاں کم ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور نیکیاں بڑھنے لگتی ہیں۔یہ ایک عجیب مضمون ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ نیک لوگ جو خدا کی خاطر خرچ کرتے ہیں ان کی راہیں ہی الگ ہیں ان لوگوں سے جو خدا کے سوا کسی چیز پر خرچ کرتے ہیں۔یہ وہ انصار ہیں