خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 856
خطبات طاہر جلدم 856 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۸۵ء کوئی چندہ نہیں دے سکتے۔ایک جماعتی نظام کے طور پر ہی دیتے ہیں۔آنحضرت علی ہے جب خدا اور بندے کے درمیان بطور رابطہ کے موجود تھے تو صحابہ کے لئے حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے قدموں میں اپنی قربانیوں کو لا ڈالنے کے سوا چارہ نہیں تھا۔حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر قربانی کرنے والے اپنی مالی قربانی کو بعض دفعہ غیروں سے چھپانے کی کوشش میں اسے براہ راست آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا کرتے تھے وہاں سے پھر ان کی اس قربانی کو شہرت مل جاتی تھی۔ان کی قربانی کو ظاہر کرنے سے غرض یہ ہوتی تھی کہ تا دوسرے ان کا تنتبع کریں۔قومی قربانیوں کا ان کے اظہار کے ساتھ ایک گہرا ربط ہے۔یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ قومی قربانیوں میں حصہ لیں اور اسے اس طرح چھپالیں اور اگر ممکن ہے بھی تو بہت بعید کی بات ہے کہ کسی فرد بشر کو اس کا علم نہ ہو سکے۔دوسرا پہلو جو ہے وہ ذاتی اور انفرادی قربانیوں کا ہے۔انفرادی قربانیوں میں بات کو چھپایا جاسکتا ہے۔مثلاً جب آپ غرباء کو فقراء کو، قیموں کو، بیوگان کو کچھ دیتے ہیں تو اخفا کی دوصورتیں ہو سکتی ہیں۔ایک تو یہ کہ آپ ساری دنیا سے چھپا کے دے سکتے ہیں مگر اس صورت میں کہ جس کو دے رہے ہیں اُس کو پتہ چل جاتا ہے۔قرآن کریم نے چونکہ اختفاء کے ساتھ انفرادی قربانیوں کے مضمون کو باندھا ہے اس لئے صحابہ نے بھی اس کا یہی مطلب سمجھا اور روایات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض دفعہ لوگ رات کو چھپ کے نکلتے تھے اور ایسے شخص کو ڈھونڈتے تھے جومحتاج بھی ہو اور جس کو ضرورت بھی ہو اور اسے پتہ بھی نہ لگے۔اب رات کو چھپ کر نکلنا اور یہ فیصلہ کر لینا کہ کوئی شخص ضرورت مند ہے یہ دو متضاد چیزیں ہیں، چنانچہ ایسے ایسے دلچسپ واقعات رونما ہوئے کہ ایک شخص رات کو نکلا ہے اور صدقہ کسی دولت مند کو دے دیا اور وہاں سے دوڑ پڑا کہ اس کو پتہ نہ چلے وَإِنْ تُخْفُوْهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُم کی ایک عجیب تصویر اُس وقت کھینچی گئی اور دوسرے دن باتیں شروع ہو گئیں اور لوگ ہنسنے لگے کہ مدینہ میں آج عجیب واقعہ ہوا ہے، آنحضرت ﷺ کا ایک غلام دنیا سے چھپنے کی خاطر کہ بجز خدا کے کسی کو علم نہ ہو سکے رات کو نکلا اور ایک امیر آدمی کو صدقہ دے کر بھاگ گیا اتنا وقت بھی نہیں دیا کہ وہ شخص کہہ سکے کہ مجھے ضرورت نہیں ہے۔پھر وہ بیچارہ دوسری رات کو نکلا اور پھر کسی ایسے شخص کو دے دیا جس کو دینا مناسب نہیں تھا۔تین راتیں وہ اسی طرح مسلسل کوشش کرتا رہا اور آخر تک وہ یہ نہیں سمجھ سکا کہ میں نے کسی صحیح آدمی کو دیا بھی ہے کہ