خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 839
خطبات طاہر جلدم 839 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء نہ ہو رہی ہوتی اگر Roman Catholicism کامیاب ہوا ہوتا تو ایسی عام بغاوت تمہارے معاشرہ کے خلاف اور تمہاری فلاسفی کے خلاف نظر نہ آتی جو اس وقت نظر آ رہی ہے۔تو رومن Roman Catholicism کا تو مقابلے کا سوال نہیں کیونکہ وہ تو تجربہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ نا کام ہو چکا ہے اور جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو اس کے بارہ میں ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے کیوں کامیاب ہوگا۔یہ عمومی تاثر تھا جو وہاں پید روآباد میں مجھ پر پڑا لیکن غرناطہ میں جا کہ چونکہ دانشور لوگ آئے ہوئے تھے وہاں یہ محسوس ہوا کہ یہ تو بہت ہی گہرا زہر ہے جو معاشرے میں پھیل چکا ہے۔اشتراکیت ہی نہیں اشتراکیت کے سوا بھی خدا کے خلاف بغاوت، مذہب کے خلاف بغاوت اور ان سب قدروں کو پیچھے چھوڑ کر کسی نئی چیز کی تلاش اور یہ وہ چیز ہے جو احمدیت کے سوا کوئی ان کو دے ہی نہیں سکتا۔ناممکن ہے اور کسی کے پاس ہے ہی نہیں اور جس قسم کے سوال وہ کرتے ہیں جو Orthodox Islam آجکل کہلاتا ہے۔Orthodox تو اصل میں ہم ہیں کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ ہی سے اسلام شروع ہوا اور سب سے Orthodox تو وہ زمانہ کہلا نا چاہئے لیکن موجودہ اصطلاح میں جب Orthodox کہا جاتا ہے تو Medieval Islam مراد ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اسلام مراد نہیں۔بیچ کی صدیوں میں جہاں اسلام میں تشدد پیدا ہوا یا جہاں اسلام میں بدقسمتی سے بعض جاہلانہ خیالات بھی آگئے بعض کم علم لوگوں نے اسلامی علوم پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اس زمانہ کو Medeival Islam سمجھا جاتا ہے اور اسی کا نام آج کل Orthodox Islam ہے۔تو Orthodox Islam کے پاس سارے نمائندے آپ جانتے کہ کس قسم کے علماء ہیں۔ان کے پاس تو ان سوالات کا کوئی جواب نہیں ان کو تو خود ان سوالوں کا ہی علم نہیں۔ان کی سوچ کی جو نہج ہے وہ بالکل مختلف سمتوں میں جارہی ہے۔ایک دانشور کو قرآن اور حدیث سے مطمئن کرنا یہ وہ معجزہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا معجزہ ہے اور بڑے سے بڑے عالم اور بڑے سے بڑے فلسفی کے سامنے بھی ایک احمدی نہ صرف یہ کہ عاجز نہیں آسکتا بلکہ اپنی برتری کو یوں محسوس کرتا ہے جیسے وہ بلند منزل سے نیچے کسی چیز کو دیکھ رہا ہو۔احمدیت کے علم کلام میں اتنا یقین اور اتنی قوت ہے کہ اس کو جب آپ بیان کرتے