خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 838
خطبات طاہر جلدم 838 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء میں یہاں کے دانشوروں کو بلایا جائے اور یونیورسٹیوں کے نمائندہ ،شاعر اور آرٹسٹ اور ہر قسم کے طلبہ اور دیگر دانشور جو کہلاتے ہیں زیادہ تر ان لوگوں کو بلایا جائے تا کہ ان کو اسلام کے متعلق سوال وجواب کا موقع ملے۔چنانچہ خدا کے فضل سے یہ تقریب بھی بڑی بھر پور رہی۔اس میں تو اتنی دیر لگ گئی کہ جو چائے کا وقت تھاوہ گزر کر کھانے کے وقت میں تبدیل ہو گیا اور پھر بھی ابھی سوال باقی تھے۔پھر میں نے ان سے کہا کہ اب ہم مجبور ہیں بعض دوست بیچاروں کو جانا ہوگا اس لئے چائے پہ چلتے ہیں۔چنانچہ چائے یا کافی کے بعد چونکہ بعض دوستوں کو طلب تھی اس لئے میں نے ان سے دوبارہ کہ دیا کہ اگر کوئی دوست ٹھہر نا چاہتے ہیں ان میں سے کسی کے سوال رہ گئے ہیں تو وہ بے شک دوبارہ آجائیں۔چنانچہ بہت سے دانشوران میں سے تشریف لے آئے اور انہوں نے ایک شکوہ کیا کہ آپ نے بیچ میں اخباری نمائندوں کو اور ریڈیو کے نمائندوں کیوں بلالیا۔ان کی وجہ سے ہماری مجلس جس طرح ہم چاہتے تھے جم نہیں سکی۔ان کو اپنے کاموں میں جلدی ہوتی ہے ان کے سوال اور قسم کے ہوتے ہیں ہم تو بڑی سنجیدگی کے ساتھ آپ سے مختلف گہرے مضامین پر آپ سے سوال کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ ان میں ایک شاعر بھی تھے جن کے متعلق ایک دوسرے سپینش شاعر نے جو خود بھی تشریف لائے ہوئے تھے بتایا کہ اس وقت یہ سپین کے بہترین شاعر ہیں۔سارے سپین میں صرف اندلس کے نہیں بلکہ چوٹی کا کلام کہنے والے اور بہت ہی گہرا اثر رکھنے والے، تمام بڑی تقریبات میں ان کو خصوصیت سے دعوت دی جاتی ہے۔وہ بھی اور بعض دوسرے دانشور اور یونیورسٹیوں کے طالب علم وہاں بیٹھ گئے اور یہ مجلس بھی رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے تک یا بارہ بجے تک چلتی رہی۔صبح دوسرے دن چونکہ ہم نے جانا بھی تھا جو دوست بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے خود بھی کھانا کھانا تھا اس لئے آخر پر پھر ان سے اجازت لینی پڑی لیکن ان کے سوالات سے اندازہ ہوا کہ اس وقت باقی یورپ کی طرح سپین میں بھی دہریت عام ہو رہی ہے اور مذہب کا جو پہلے خیال تھا، کھوکھلا سا ایک تصور تھا اب وہ تصور بھی ٹوٹ رہا ہے۔چنانچہ جب میں ایک موقع پر وہاں پید روآباد میں مجھ سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ کے نزدیک Roman Catholicism اور اسلام میں سے کون جیتے گا کس کا مستقبل ہے؟ تو میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ جہاں تک Roman Catholicism کا تعلق ہے وہ تو مر چکا ہے کیونکہ Roman Catholicism اگر کامیاب ہوا ہوتا تو تمہاری قوم دہر یہ