خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 825
خطبات طاہر جلدم 825 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۸۵ء چائے پی رہے تھے تو جو میرے مترجم تھے وہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے وہاں مشن کی سیکرٹری ہیں ان کے میاں ہیں۔وہ قرآن کریم کے ترجمہ کی نظر ثانی بھی کر رہے ہیں، بڑے قابل آدمی ہیں۔وہ مہمانوں کے ایک گروہ کے سامنے اٹالین میں بڑی زبردست تقریر کر رہے تھے ان کے اوپر خاص جوش تھا۔تو بعد میں میں نے پتہ کیا تو یہ کہہ رہے تھے ان کو کہ دیکھو کیسے ہم شرمندہ ہوئے ہیں۔ساری دنیا میں تم لوگ اپنی تبلیغ کر رہے ہو اور ایک مشن شریف لوگوں کا آتا ہے جن کے ارادے نیک ہیں جو با اخلاق لوگ ہیں وہ یہاں تم لوگوں سے کچھ کہنے کے لئے آتے ہیں اور تم آگے سے یہ پوچھتے ہو کہ تم کیا کرنے آئے ہو یہاں۔کھلے ہاتھوں سے استقبال ہونا چاہئے تھا۔اگر تمہارا حق ہے تو ان کا بھی حق ہے کہ یہاں آئیں اور آکر تمہیں تبلیغ کریں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ ساری عیسائیت کی جان اس وقت اٹلی میں ہے اگر چہ فرقے بے شمار ہیں لیکن جو لوگ پوپ کو نہیں بھی مانتے وہ بھی یہ ضرور مانتے ہیں کہ ساری دنیا کی عیسائیت کی جان یہاں اٹلی میں ہے۔اٹلی پر ہمارا جوابی حملہ ضروری ہے اور ضروری نہیں ہوا کرتا کہ قلب سے حملہ شروع ہو بلکہ بسا اوقات قلب کی باری بعد میں آیا کرتی ہے۔یہ ایک خاص علامت خدا تعالیٰ کی طرف سے نصرت کی ہے جسے میں ایک علامت کے طور پر دیکھ رہا ہوں کہ اب قلب کی باری آ رہی ہے، عیسائیت کے دل پر حملہ کرنے کی باری آئی ہے اور ہمارا جو حملہ دل پر ہے اس کا مطلب صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس کے سینے سے نکال کر اپنے سینے میں دلوں کو اکٹھا کر لو۔یا اس سے بھی زیادہ اس حملے کا خوبصورت اظہار یہ ہے جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ بیان فرمایا کرتے تھے ایک سوال کے جواب میں کہ دلوں کو کرو گے کیا تو انہوں نے کہا خالق و مالک حقیقی کے قدموں میں لوٹا دیں گے جہاں سے یہ دل بھاگے ہوئے ہیں۔تو میں جب کہتا ہوں دلوں پر حملہ تو مراد یہی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ عیسائیت کے دل پر حملہ کیا جائے اور اسے حقیقی خدا کے قدموں کی طرف لوٹا دیا جائے جس سے وہ دور جا چکا ہے۔اس لئے میں اٹلی کے مشن کو بہت ہی غیر معمولی اہمیت دیتا ہوں اور اسی لئے میں بار بار آپ کو اس کے لئے دعا کی تحریک کر رہا ہوں۔جہاں تک سپین کا تعلق ہے۔یہاں بھی انشاء اللہ ایک مشن کے اضافے کا پروگرام ہے۔غرناطہ دو دن تک جائیں گے انشاء اللہ۔وہاں پہلے سے بعض زمینیں دیکھی گئی ہیں۔وہاں جائزہ