خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 802 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 802

خطبات طاہر جلدم 802 خطبه جمعه ۲۷/ ستمبر ۱۹۸۵ء اللہ تعالیٰ نے وَوَسِعُ مَكَانَک ( تذکره صفحه (۴۱) فرما کر یہ بتایا کہ ہم تیرے ماننے والوں میں تیرے اراد تمدنوں میں تیری پیروی کرنے والوں میں بہت بڑی وسعت دینے والے ہیں اس کے لئے تیاری کر اور اپنے مکانات کو وسعت دے۔یہ وجہ ہے کہ میں جن خدا تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر کر رہا ہوں اور ان نئی وسعتوں کے ساتھ جوز مینی وسعتیں، روحانی دینی وسعتیں ساتھ ساتھ ملنی شروع ہو گئی ہیں اور ان کے آثار بڑے نمایاں دکھائے دینے لگے ہیں۔چنانچہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس افتتاحی پروگرام میں جو مہمان تشریف لائے ہوئے تھے ان میں عرب بھی تھے ، ان میں یورپین بھی تھے، امریکن بھی اور جرمن بھی ہر قسم کے لوگ تھے اور متعد دمہمان ان میں سے ٹھہر گئے اور اصرار کیا، خود خواہش کی، مجھے بھی مل کے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کچھ سوالات کریں۔چنانچہ میں نے ان سے کہا اگر آپ چاہتے ہیں تو بے شک شام تک ٹھہریں۔چنانچہ بڑے خلوص کے ساتھ انہوں نے حصہ لیا اور اگر بعد میں ہمارا ایک اور پروگرام نہ ہوتا تو وہ مجلس ختم ہونے میں نہیں آ رہی تھی۔دوستوں کی بہت خواہش تھی کہ ہم اپنے سوالات کریں مگر چونکہ ایک اور جگہ بھی پروگرام تھا اس لئے بہر حال غالباً ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد اس مجلس کو ختم کرنا پڑا۔شاید زیادہ وقت تھا دو گھنٹے کے لگ بھگ تھا۔وہاں یہ بات بھی دیکھنے میں آئی کہ اسلام میں جو غیر معمولی دلچسپی ہے وہ بھی بڑھتی چلی جارہی ہے اور اتنی جلدی تائید میں سر ہلنے لگ جاتے ہیں کہ اس سے پہلے مجھے تصور بھی نہیں تھا کہ ایک مجلس میں اتنی جلدی بعض لوگ اپنے خیالات تبدیل کر سکتے ہیں اور جماعت احمدیہ کا جہاں تک تعلق ہے صرف غیر مسلموں میں ہی نہیں ان مسلمانوں میں بھی بہت تیزی سے دلچسپی بڑھ رہی ہے جو اس سے پہلے ہم سے متنفر تھے اور جو پہلے سوال انہوں نے کئے ان سوالات سے ان کے چہروں کے اثرات سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ خشونت اور نفرت پائی جاتی ہے اور کچھ غصہ پایا جاتا ہے لیکن جب میں نے ان کے سوالات کے جوابات دیئے تو چہروں کے تأثر بدلنے شروع ہو گئے اور کچھ عرصے کے بعد بہت انہماک پیدا ہو گیا۔آخر پر ان سے جب معذرت کر کے اس لئے کہ بعض جرمن دوست بھی تھے ان سے بھی وعدہ کیا ہوا تھا کہ آپ کے سوالات کے جواب دوں گا۔تو جب میں نے دوسری طرف توجہ کی پھر بھی وہ آخر وقت تک بیٹھے رہے اور صرف یہی نہیں بلکہ دوسرے دن صبح جب ہم باہر جا رہے تھے تو وہ پھر پہنچے ہوئے تھے۔میں نے ان کو دیکھ کر