خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 801
خطبات طاہر جلدم 801 خطبه جمعه ۲۷/ ستمبر ۱۹۸۵ء نے بھی بہت محنت کی ہے۔پہلی دفعہ جب میں نے دیکھی تھی تو اس کے مقابل پر اس کی بالکل کا یا پلٹ دی ہے۔ہر جگہ جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جو جگہیں حاصل کرتی ہے اپنی خدمت کی رو سے، ایثار کے جذبے کے ساتھ اس کے اندر نئے رنگ بھر دیتی ہے، نئی شکلیں بنادیتی ہے اور یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک معجزہ ہے، اس دور میں جماعت احمد یہ دنیا سے الگ تھلگ اپنے اوقات کے مصرف خدمت دین کے لئے وقف کر رہی ہے اور انگلستان میں بھی یہی ہوا تھا۔جب اسلام آباد خریدا گیا ہے اس کی حالت اس وقت کچھ اور تھی جب ہم نے اس کو آباد کیا تو پہچانا نہیں جاتا تھا۔اردگرد کے لوگ حیرت سے دیکھنے آیا کرتے تھے کہ یہ وہی جگہ ہے جو کچھ عرصہ چند مہینے پہلے تم لوگوں نے لی تھی۔تو بہر حال خدا کا بہت بڑا احسان ہوا بہت اچھی جگہ مل گئی اور وہاں افتتاح بھی بہت ہی عمدہ ہوا۔کثرت سے مہمان معززین تشریف لائے ہوئے تھے اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے نمائندے بھی آئے ہوئے تھے۔اسی شام کو ریڈیو پر بھی خبریں آئیں ، ٹیلی ویژن پر بھی دکھایا گیا اور اخبارات کے نمائندگان نے بھی بہت اچھی رپورٹنگ کی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمسائے بہت اچھے ملے ہیں۔میئر کہیں باہر گئے ہوئے تھے اس لئے ان کے نمائندے تشریف لائے تھے انہوں نے بہت عمدہ خیالات کا اظہار کیا اور جو دوست مہمان تشریف لائے تھے انہوں نے اتنی دلچپسی شروع کر دی کہ بعض ان میں سے اصرار کے ساتھ ٹھہر گئے کہ ہم شام کی مجلس سوال وجواب میں بھی حصہ لیں گے۔هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ میں صرف ظاہری زمینوں کی فراخی کا ذکر نہیں ہے بلکہ اول طور پر روحانی زمینوں کی فراخی کا ذکر ہے۔دین کو پھیلنے سے روکا جاتا ہے اس لئے بتایا گیا ہے اور تسلی دی گئی ہے کہ جو اللہ کا دین ہواس کو پھیلنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ہر روز اسے نئی وسعتیں عطا ہوتی چلی جاتی ہیں۔جتنے مراکز بھی خدا تعالیٰ نے نئے عطا کئے ہیں ان میں بھی اصل میں یہی حکمت ہے۔یہ وعدہ ہے کہ ہم تمہاری روحانی زمین کو پھیلانے والے ہیں اس لئے نئی زمینیں عطا کر رہے ہیں ورنہ ظاہری طور پر مادی طور پر دنیا کی چند زمینیں یا چند مکانات حاصل ہونے سے ہمیں کیا خوشی ہو سکتی ہے۔اصل اس کے پیچھے یہ روح کارفرما ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہاماً