خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 753
خطبات طاہر جلدم 753 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء پھر سیاست کی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عظیم خدمات سرانجام دینے کا موقع عطا فرمایا اور ہندوستان کی جو دوکالت آپ نے انگریزی حکومت کے سامنے کی ہے وہ بھی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حرفوں سے لکھی جائے گی اور کوئی مورخ جو تقوی اور دیانت سے کچھ بھی حصہ پاچکا ہو وہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ان خدمات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔گول میز کانفرنس میں ،اس کے علاوہ بہت سے مواقع آئے میں نے لسٹ تیار کروائی تو بہت لمبی ہوگئی تھی۔اس لئے یہ تو اس چھوٹے سے خطبہ میں ممکن نہیں ہے۔چوہدری صاحب کی ایک وسیع اور طویل اور بھر پور زندگی کے سارے پہلوؤں کا ذکر کر دیا جائے۔میں تو ضمناً چند باتیں بیان کر رہا ہوں جو آپ کو دعا کی تحریک کے طور پر اور اس تحریص کے طور پر یاد دلا رہا ہوں کہ آپ میں سے بھی ویسے پیدا ہوں۔میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان آیات میں لا متناہی ترقی کے رستے کھولے گئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات اقدس سے بڑھ کر کوئی وجود متصور ہو ہی نہیں سکتا اور فرمایا اپناذ کر کرنے کے بعد یہ بتا کر کہ خدا تم پر وحی نازل فرما رہا ہے سب کو صلائے عام دے دو اور کہہ دو کہ اب تم میں ہمت ہے تو آؤ ان رستوں کو اختیار کرو جن پر میں دوڑا تھا اور آؤ اور مجھے پکڑ کے دکھاؤ اور آؤ اور میری پیروی کر کے دکھاؤ اور یہ لا متناہی رستے ہیں کوئی روک نہیں ہے۔کوئی مصنوعی حدیں ایسی نہیں ہیں جو تمہارے لئے حد فاصل ثابت ہوں اس لئے دوڑنے کی تمہیں اجازت ہے اور دوڑنے کی تمہیں دعوت ہے۔لیکن ترقیوں کے لئے ان رستوں پر چلنا پڑے گا جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طے کر کے دکھائے ہیں۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑھنے کی بھی کھلی اجازت ہے اور حد امکان کے لحاظ سے کوئی روک نہیں ہے اگر چہ یہ بھی بڑی وضاحت کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ کبھی ایسا ممکن نہیں ہو گا کہ کوئی شخص آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلتے ہوئے آپ سے آگے نکل جائے لیکن روکا نہیں گیا بلکہ بلایا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کے آخری ہونے کو مایوسی کے لئے استعمال نہیں فرمایا بلکہ دعوت عام کے طور پر استعمال کیا ہے، تحریص کے طور پر استعمال فرمایا ہے۔تو آپ سے ادنی جتنے بھی بندے ہیں ان کے رستوں پر چل کر ان سے آگے نکلنے کے تو امکان بھی موجود ہیں۔تو امت محمدیہ کو کتنی عظیم خوشخبری دے دی گئی