خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 738
خطبات طاہر جلد۴ 738 خطبه جمعه ۳۰ / اگست ۱۹۸۵ء کے سبق اس کو نہیں بتا سکے تھے اور ایسے ایسے عجیب خطوط بچیوں کے موصول ہورہے ہیں کہ ہر روز پڑھ کے میرا دل حمد اور شکر سے بھر جاتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ہمیں تو خدا تعالیٰ نے بچالیا ہے۔آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ ہمارے اندر کیا انقلابات برپا ہوئے ہیں۔احمدیت سے تعلق ، اسلام کی محبت اور ذاتی وابستگی، اللہ تعالیٰ سے پیار، یہ ساری نعمتیں ہمیں دو تین ہفتے میں ایسی مل گئی ہیں کہ بعض بچیوں نے کہا ہے کہ اب تو ہم بے قراری سے اگلے سال کا انتظار کر رہی ہیں۔حالانکہ اس سے پہلے منتظمین کا تاثر یہ تھا کہ تین ہفتے بہت لمبا وقت دے دیا گیا ہے، اس میں تو بچیاں بور ہوجائیں گی ، تو بور ہونے کی بجائے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے ولولے لے کر لوٹی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ان کو دیکھ کر کہ کتنی جلدی ان میں تبدیلی رونما ہوئی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے جو یہ وعدہ کیا تھا کہ لِلَّذِینَ اَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَاَرْضُ اللهِ وَاسِعَةُ اس وعدہ کو ہم ہر جہت میں پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔احمدیوں کی نئی نسلیں سنور رہی ہیں اس ابتلاء کے نتیجہ میں۔ہر دل میں نئی وسعتیں پیدا ہورہی ہیں، ہر ذہن میں نئی وسعتیں پیدا ہورہی ہیں اور یہ وسعتیں ہیں جو باہر کے لوگ اپنی کوتاہ بینی کے نتیجے میں دیکھ نہیں سکتے۔یہ تو کوئی صاحب ایمان ہی ہے جس کی نظر دیکھ لیتی ہے ان چیزوں کو یا وہ جن کے دل پر گزرتی ہے اور یہ وسعتیں ساری دنیا میں تمام احمد یوں کو نصیب ہو رہی ہیں۔نجی میں بیٹھے لوگ جو دور دراز ایک جزیرہ ہے وہ بھی لکھ رہے ہیں کہ اس ابتلا میں تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں نئے حو صلے نئے ولولے عطا کر دیئے ہیں، احمدیت کے لئے خدمت کی جو تمنا اب پیدا ہوئی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔افریقہ کے بیابان جنگلوں میں اور وہ جسے تاریک براعظم کہا جاتا ہے ان کے تاریک ترین گوشوں سے ایسے خط آرہے ہیں کہ جو ابتلا کا حوالہ دے کر یہ لکھتے ہیں کہ یہ ابتلا کیا آیا ہے ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے روشنی عطا کر دی ہے، نیا نور بخش دیا ہے، اب ہم یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں لٹا دیں گے اور باتوں کو چھوڑ دیجئے یہ جو قلبی کیفیات میں وسعتیں نصیب ہوئی ہیں اور دماغوں میں جو پاک تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں یہی ایک اتنا عظیم الشان خدا تعالیٰ کا انعام ہے کہ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا کہ نتیجہ میں جو خدا تعالیٰ کے وعدے تھے ان کو ہم پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔