خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 711 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 711

خطبات طاہر جلدم 711 خطبه جمعه ۲۳ را گست ۱۹۸۵ء زیادہ وفا کے ساتھ قدم مارنے کے انہوں نے عزم کئے۔چنانچہ جب میں نے ان کے حال پر نظر کی تو قرآن کریم کی ان آیات کی طرف میری توجہ مبذول ہوئی جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ دوگروہوں کا مقابلہ کرتا ہے، ان کا موازنہ فرماتا ہے اور بتاتا ہے کہ کس کے ساتھ خدا کے پیار کا سلوک ہوگا اور کس کے ساتھ خدا کا پیار کا سلوک نہیں ہوگا۔چنانچہ فرمایا آمَنْ هُوَ قَانِتُ أَنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَقَابِمَا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُوا رَحْمَةَ رَبِّهِ کیا وہ شخص جو قانت ہورات کی گھڑیوں میں وہ سجدے بھی کرتا ہو اور قا ہما کھڑے ہو کر بھی خدا کی عبادت کرتا ہو، دنیا کے مقابل پر آخرت سے ڈرتا ہو اور اللہ کی رحمت کا امیدوار ہو۔یہ وہی مضمون ہے جس کو قرآن کریم دوسری جگہ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا (السجدة: ۱۷)۔کہ وہ خوف سے بھی اللہ کو یاد کرتے ہیں اور طمع سے بھی اللہ کو یاد کرتے ہیں لیکن وہاں خوف کو مجمل بیان فرمایا گیا تھا یہ ممکن ہے کسی کا ذہن اس طرف منتقل ہو جائے کہ وہ دنیا کے خوف کے وقت خدا کو یاد کرتے ہیں یہ ہرگز مراد نہیں ہے۔جو اللہ کے ہوتے ہیں وہ اس بات سے بے نیاز ہوتے ہیں کہ خوف آئے تو خدا کو یاد کریں یہ تو دنیا داروں کا کام ہے کہ خطرے کے وقت اللہ کو یاد کریں اور امن کے وقت خدا کو بھول جائیں۔چنانچہ قرآن کریم اس احتمال کی نفی دو طریق پر کرتا ہے۔ایک جگہ تو یہ فرمایا کہ مشرک لوگ ہیں ان کی عادت ہوتی ہے کہ جب وہ خطرات میں گھر جاتے ہیں، طوفان ان کو گھیر لیتے ہیں ،غرق ہونے کا خطرہ جان کو لاحق ہو جاتا ہے تب وہ خدا کو یاد کرتے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ جب یہ خطرات ٹل جائیں گے تو پھر وہ خدا کو بھول جائیں گے لیکن اس کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ پھر بھی وہ ان کومعاف فرما دیتا ہے، پھر بھی ان پر رحم کر لیتا ہے۔دوسری دفعہ یہاں اس موقع پر اس بات کوکھول دیا کہ جب ہم کہتے ہیں يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا تو ہرگز یہ مراد نہیں کہ غیر اللہ کے خوف کی وجہ سے وہ خدا کو یاد کرتے ہیں غیر اللہ کا خوف ان کو ہوتا ہی نہیں۔جو خدا والے بن جاتے ہیں دنیا کے خوف سے وہ نا آشنا ہو جاتے ہیں کیونکہ جو خدا کے ساتھ رہتا ہو جس کو احساس ہو خدا کے وجود کا کہ وہ ہر دم میرے ساتھ ہے، جو میری پشت پر کھڑا ہے، ان کو آخرت کا خوف تو ہوتا ہے خدا کی ناراضگی کا خوف تو ہوتا ہے دنیا کا خوف نہیں ہوتا۔تو فرمایا یحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهِ۔۔آخرت کے بارہ میں خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ہمارے اعمال کی کوتاہیاں اور ہماری شامت اعمال وہ