خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 684
خطبات طاہر جلدم 684 خطبه جمعه ۹ را گست ۱۹۸۵ء جب صحابہ سمجھتے تھے اب یہ واپس نہیں آسکے گا تو پھر وہ صفیں چیرتا ہوا واپس آجا تا تھا اور واپس آکر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اور کہتا تھا یا رسول اللہ ! میرے لئے دعا کریں میں شہید ہو جاؤں ابھی تک شہید نہیں ہوا۔پھر وہ پلٹ کر حملہ کرتا تھا اور پھر اسی طرح دشمن کی صفیں چیر تا چلا جاتا تھا اور نرغے میں بظاہر پھننے کے بعد پھر جیسے افق سے سورج نکلتا ہے اس طرح وہ نمودار ہوتا تھا۔پھر حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اور کہتا تھا یا رسول اللہ ! میں نے سب کچھ کر دیکھا ہے، خطرناک سے خطرناک جگہ پر بھی پہنچا ہوں مگر نہیں شہید ہوسکا میرے لئے دعا کیجئے کہ میں شہید ہو جاؤں۔راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ پھر جب وہ واپس آئے تو اتنی التجا تھی ان کی اس درخواست میں اس تمنا کے اظہار میں تو اُس وقت حضرت محمد مصطفی علی نے دعا کی اے خدا! اس کو شہید کر دے۔کہتے ہیں کہ وہ سورج پھر جب بادلوں کے پیچھے گیا ہے تو واپس نہیں لوٹ کر دیکھا گیا۔پھر وہ دوسرے روحانیت کے افق پر نمودار ہوا ہے ایک اور افق پر وہ اُبھرا ہے مگرنئی شان کے ساتھ اور نئی چمک کے ساتھ۔یہ ہے وہ تو ازن جو جماعت احمدیہ میں میں دیکھنا چاہتا ہوں میں کیا آپ کا خدادیکھنا چاہتا ہے۔یہ وہ توازن ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنے صحابہ میں پیدا کر کے دکھا دیا تھا۔پس اپنے دفاع سے غافل نہ ہوں شہادت کی تمنا کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کو جو خدا تعالیٰ نے اپنے دفاع کے حقوق دیئے ہیں ان سے غافل ہو جائیں۔کیونکہ شہید ہونے والے کو تو دکھ نہیں ہوگا وہ تو خوش نصیب ہوگا وہ تو فُوتُ بِرَبِّ الكَعْبَة ( صحیح بخاری کتاب المغازی حدیث نمبر ۳۷۸۳) خدا کی قسمیں کھاتا ہوا یہاں سے جائے گا کہ ہاں خدا کی قسم ! ! رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔لیکن اس کے پیچھے وہ لوگ ہیں جن کو ایک ایک بھائی کی جدائی سے دکھ پہنچتا ہے خوش نصیبی سمجھتے بھی ہیں لیکن یہ حسرت رکھتے ہیں کہ کاش ہمیں یہ خوش نصیبی پہلے حاصل ہو جاتی۔تو ہر شہادت پر جماعت خوش نصیب بھی بنتی ہے اور دکھ بھی اٹھاتی ہے یہ وہ بظاہر تضاد جو پہلی حالت میں پایا جاتا تھاوہ اس دوسری حالت میں بھی پایا جاتا ہے یعنی شہادت سے قبل کی تمنا میں بھی ایک بظاہر تضاد ہے، تمنا ہے مگر دفاع ہے اور دفاع بھی انتہا درجے کا اور ذہانت بھی کمال کی پوری طرح دشمن کے منصوبوں کو سمجھنا اور اس کے مقابل پر تیار ہونا اور پھر جب خدا یہ سعادت نصیب فرماتا ہے اس وقت بھی جذبات میں ایک