خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 638
خطبات طاہر جلدم 638 خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۸۵ء سامنے ہر قسم کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر ہر قسم کی ایذاء دہی پر آمادہ پاتے ہوئے تم جب صف آراء دیکھو گے تو حوصلہ نہیں ہارنا ہمیں پتہ ہے کہ ایسے لوگ موجود ہیں، ہمیں علم ہے خدا نے ہدایت دینی ہوتی ہے خدا جانتا ہے کہ ان لوگوں کو وہ ہدایت نہیں دے گا اس کے باوجود یہ حکم ہے کہ تم نے تبلیغ سے باز نہیں آنا کیونکہ قوم کی جو دوسری اکثریت ہے بھاری جس کو الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ نہیں کہا جا سکتا نادان ہیں ، لاعلم ہیں ، جاہل ہیں، ان کو ہدایت نصیب ہو جائے گی پس اس لئے یہ مضمون اس شکل میں مکمل ہوتا ہے۔تبلیغ میں حسن خلق کو بھی بہت دخل ہے اور جتنا آپ کے دل میں نرمی ہوگی ، بنی نوع انسان کی ہمدردی ہوگی ،سچائی سے پیار ہوگا تقویٰ ہوگا ، خدا کا خوف ہو گا دل میں اور حسن خلق اس کے علاوہ بھی ہوگا اگر چہ انہی چیزوں سے پیدا ہوتا ہے لیکن عام بنی نوع انسان نہ تقوی کو دیکھ سکتے ہیں نہ خوف خدا کو دیکھ سکتے ہیں دوسرے رنگ میں ، نہ آپ کے دل کے اندر جھانک کر آپ کی خوبیوں کو دیکھ سکتے ہیں لیکن انہی جڑوں میں سے کچھ شاخیں پھوٹتی ہیں جس کو عرف عام میں اخلاق کہتے ہیں اور تقویٰ کی بنیاد پر جو اخلاق قائم ہوتے ہیں وہ عام دنیا کے اخلاق سے بہت بہتر ہوتے ہیں بہت گہرے اور بہت مستقل ہوتے ہیں تو جہاں تک تبلیغ کا تعلق ہے حسن خلق بہت ہی ضروری ہے۔لیکن صرف حسن خلق کافی نہیں یہ غلط فہمی بھی دل سے نکال دیں۔کئی احمدی کہتے ہیں کہ ہم اپنے اخلاق سے تبلیغ کر رہے ہیں اور جو شکایت مجھے معلوم ہوئی اس میں یہ بھی محاورہ شامل کیا گیا تھا کہ فلاں مبلغ نے علاقے میں اچھا بھلا امن برباد کر دیا آگ لگا دی وہاں حالانکہ ہم نے اسے متنبہ بھی کر دیا تھا اور بتا دیا تھا کہ ہم بہت حسن خلق سے خاموش تبلیغ کر رہے ہیں اور کسی مزید شور ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔حسن خلق کا انکار تو ممکن ہی نہیں ہے ایک بہت ہی بڑا اور مؤثر ہتھیار ہے جس کے ذریعہ تبلیغ پھل لاتی ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن محض حسن خلق اور زبان سے خاموشی۔یہ تو نہ انبیاء کا دستور ہے نہ کوئی معقول آدمی اسے تسلیم کر سکتا ہے کہ اس طرح تبلیغ پھیل جائے گی اگر خدا تعالیٰ نے صرف حسن خلق سے کام لینا ہوتا۔اور باغ کے حکم کی ضرورت نہ ہوتی تو آپ کے خلق کو حضرت محمد مصطفی ملالہ کے خلق سے کیا نسبت ہے۔ع چه نسبت خاک را به عالم پاک