خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 637
خطبات طاہر جلدم 637 خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۸۵ء تعجب انگیز ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ اتنا زور دے رہا ہے کہ ضرور کرنی ہے تبلیغ اور اس طرح کرنی ہے جس طرح حضرت محمد رسول اللہ یہ کیا کرتے ہیں ، مخالفت کے باوجود کرنی ہے اللہ پر توکل کرتے ہوئے کرنی ہے اور ساتھ اعلان کر دیا اِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ لَه الله کافروں کو ہدایت دیتا ہی نہیں کبھی ہدایت نہیں دیتا۔اگر ہدایت دیتا ہی نہیں تو اس مصبیت میں کیوں ڈال دیا پھر محمد مصطفی ﷺ کو، آپ کے سب غلاموں کو قیامت تک کے لئے حکم دے دیا کہ تبلیغ کرتے چلے جاؤ اور اعلان یہ کر دیا إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ اللہ تعالیٰ کا فروں کو ہدایت نہیں دیتا یہاں۔لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ میں دوباتیں خاص طور پر پیش نظر ہیں کسی کا فر کو ہدایت نہیں دیتا یہ تو اس کا ترجمہ ہے ہی غلط قوم الکافرین ہے اور ایک صفت کے ساتھ باندھا گیا ہے انکو۔دراصل ہرانبیاء کے مخاطب لوگوں کا یہ حال ہوا کرتا ہے کہ بعض پیشہ ور مکفرین بن جایا کرتے ہیں اور قوم کا یہ محاورہ عرب میں اسی لئے استعمال ہوتا ہے۔ہم جاہلوں کی قوم میں سے نہیں ہیں جب یہ کہتے ہیں عرب تو مراد یہ نہیں کہ ہم اس قبیلے میں سے نہیں ہیں جو جاہل ہے یا ظاہری لحاظ سے اس قوم میں سے نہیں ہیں یہ عربی محاورہ ہے جب قوم کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو مراد یہ ہے ، وہ لوگ جو اس چیز کے لئے مخصوص ہو چکے ہیں، اس زمرے میں ہم شمار نہیں ہو سکتے جس زمرے میں یہ بد بخت لوگ ہیں والقَوْمَ الْكَفِرِينَ فرمایا گیا ہے یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ کسی کافر کو نعوذ باللہ خدا ہدایت ہی نہیں دیتا، اگر ہدایت ہی نہیں دیتا تو اس مصیبت کو کھڑا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی خواہ مخواہ ہنگامہ کا بر پا کیا فساد ہوئے اور نتیجہ یہ کہ ہدایت ملنی کسی کو نہیں۔اس لئے غلط ترجمہ ہے اگر کوئی یہ ترجمہ کرتا ہے۔الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ سے خاص معنی مراد ہے وہ لوگ جن کا پیشہ بن گیا ہے مخالفت کرنا، وہ لوگ جن کے مقدر میں انکار ہے ، وہ ہمیشہ ہر حال میں تمام انبیاء کے مخاطب میں ضرور کچھ نہ کچھ لوگ رہتے ہیں جن کو آئمة الكفر فرمایا گیا ہے دوسری جگہ اور آئمـة التــكـفـيــر بھی کہا جاتا ہے۔تو الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ سے مراد یہ ہے کہ تمہارے مقابلہ پر ایک جماعت لازماً ایسے شدید مخالفین کی رہے گی جن کو تمہارا حسن خلق تبدیل نہیں کر سکے گا اور کوئی بھی تم طریق کا راختیار کرو، وہ تبلیغ ان پر اثر نہیں کرے گی لیکن ان کی وجہ سے باقی قوم کو محروم نہیں ہونے دیا جائے گا اس لئے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ باوجود ایسے شدید ٹولے کو اپنے سامنے صف آراء دیکھتے ہوئے، ایسے شدید معاندین کو اپنے