خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 56
خطبات طاہر جلد۴ 56 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۵ء کوشش کر دیکھو مفت میں دنیا کی ہر دلعزیزی ہاتھ آجائے تو ٹھیک ہے لیکن نہ بھی آئے تو آمریت تو پیچھے نہیں ہٹا کرتی۔اس لئے آمریت میں جو بے پرواہی پائی جاتی ہے وہ ہمارے خلاف موجودہ مہم میں بھی بالکل ظاہر وباہر ہے۔1974ء میں حکومت نے اپنے فیصلے کے دوران جماعت کو موقع تو دیا اور چودہ دن قومی اسمبلی میں سوال و جواب ہوتے رہے۔جماعت نے اپنا موقف تحریری طور پر بھی پیش کیا لیکن ساتھ ہی چونکہ وہ بڑی ہوشیار اور چالاک حکومت تھی اُس نے قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران ہی یہ محسوس کر لیا تھا کہ اگر یہ باتیں عام ہوگئیں اور سوال و جواب پر مشتمل اسمبلی کی کاروائی اور اس کی جملہ روئیداد دنیا کے سامنے پیش کر دی گئی تو حکومت کا مقصد حل نہیں ہو سکے گا بلکہ برعکس نتیجہ نکل سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ بجائے اسے سراہنے کے کہ جماعت کو ہر قسم کا حق دینے کے بعد ایک جائز فیصلہ ہوا ہے دنیا بالکل برعکس نتیجہ نکالے اور کہے کہ جماعت تو اس کارروائی کے نتیجہ میں بہت ہی زیادہ مظلوم ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ جماعت نے اپنے موقف کی تائید میں اتنے مضبوط اور قوی دلائل پیش کئے جو عقلی بھی ہیں اور نعلی بھی اور اُن کے پیش نظر کوئی یہ نتیجہ نکال ہی نہیں سکتا کہ جماعت احمد یہ مسلمان نہیں ہے۔چنانچہ اس وقت کی حکومت نے اس خطرہ کی پیش بندی اس طرح کی کہ جماعت کو قا نو نا اور حکما پابند کیا گیا کہ قومی اسمبلی میں جو بھی کارروائی ہو رہی ہے اس کا کوئی نوٹ یا کوئی ریکارڈنگ اپنے پاس نہیں رکھیں گے اور یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ حکومت اس کا رروائی کو دنیا میں ظاہر نہیں ہونے دے گی۔اس کارروائی کا نتیجہ کیا تھا وہ اس واقعہ سے ظاہر ہو سکتا ہے کہ ایک دفعہ قومی اسمبلی کے ایک ممبر سے ایک موقع پر یہ سوال ہوا کہ آپ اس کا رروائی کو شائع کیوں نہیں کرواتے ، ساری قومی اسمبلی نے آپ کے بیان کے مطابق متفقہ فیصلہ دے دیا ہے کہ جماعت احمد یہ غلط ہے اور اپنے عقائد کے لحاظ سے اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تو پھر اسمبلی کی کارروائی شائع کر کے ان کا جھوٹ دنیا پر ظاہر کریں۔انہوں نے ہنس کر جواب دیا کہ تم کہتے ہو شائع کریں شکر کرو کہ ہم شائع نہیں کرتے اگر ہم اسے شائع کر دیں تو آدھا پاکستان احمدی ہو جائے۔میں سمجھتا ہوں یہ کہنا ان کی کسر نفسی تھی اگر پاکستان کے شریف عوام تک جماعت احمدیہ کا موقف حقیقہ پہنچ جائے تو کوئی وجہ ہی نہیں کہ سارا پاکستان احمدی نہ ہو جائے سوائے ان چند بد نصیب لوگوں کے جو ہمیشہ محروم رہ جاتے ہیں۔ہدایت