خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 55

خطبات طاہر جلدم 55 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۵ء فرق ہے۔وہ حکومت حیادار تھی۔اسے اپنے ملک کے باشندوں کی بھی حیا تھی اور بیرونی دنیا کی حکومتوں کی حیا بھی تھی۔تاہم احمدیت کی دشمنی میں کمی نہیں تھی۔یعنی جہاں تک منصوبے کا تعلق ہے اور جماعت کی بنیادوں پر سنگین حملہ کرنے کا تعلق ہے دونوں میں یہ دشمنی قدر مشترک ہے اور بھٹو صاحب کے زمانہ کی حکومت اور موجودہ حکومت میں اس پہلو سے کوئی فرق نہیں لیکن جہاں تک حیا کا تعلق ہے اس میں نمایاں فرق ہے۔بھٹو صاحب ایک عوامی لیڈر تھے اور عوام کی محبت کے دعویدار بھی تھے اور وہ چاہتے تھے کہ اپنے ملک کے عوام میں ہر دلعزیز لیڈر بنے رہیں اور عوام کو یہ محسوس نہ ہو کہ وہ دھاندلیاں کر کے اور آمرانہ طریق اپنا کر حکومت کرنے کے خواہاں ہیں سوائے اس کے کہ اشد مجبوری ہو۔چنانچہ انہوں نے جماعت احمدیہ کے خلاف اقدامات کرنے سے پہلے ایک عوامی عدالت کا رنگ دیا اور قومی اسمبلی میں معاملہ رکھا گیا اور اس میں جماعت کو بھی اپنے دفاع کا ایک موقع دیا گیا تا کہ بیرونی دنیا کو اعتراض کا موقع نہ ملے۔دراصل اس طرح وہ بیرونی دنیا میں اپنا اثر بڑھانا چاہتے تھے۔بیرونی دنیا میں بھی ان کی تمنا ئیں بہت وسیع تھیں۔وہ صرف پاکستان کی رہنمائی پر راضی نہیں تھے بلکہ اپنا اثر و رسوخ اردگرد کے علاقے میں پھیلانا چاہتے تھے جیسے پنڈت نہر وا بھرے تھے اس طرح وہ مشرق کے لیڈر کے طور پر ابھرنے کی تمنار کھتے تھے۔وہ چاہتے تھے کہ صرف پاکستانی رہنما کے طور پر ہی نہیں بلکہ مشرق کے ایک عظیم رہنما کے طور پر ابھریں اور دنیا سے اپنی سیاست کا لوہا منوائیں۔پس اس وجہ سے بھی چونکہ ان کی آنکھوں میں بیرونی دنیا کی شرم تھی۔وہ چاہتے تھے کہ اندرون اور بیرون ملک جماعت کا معاملہ اس رنگ میں پیش کیا جائے کہ گویا وہ بالکل مجبور ہو گئے تھے، ان کے اختیار میں نہیں رہا تھا ، بایں ہمہ انہوں نے عوامی دباؤ کو براہ راست قبول نہیں کیا بلکہ جماعت احمدیہ کے سر براہ اور ان کے ساتھ چند آدمیوں کو بلا کر ایک موقع دیا کہ وہ اپنے مسلک کو پیش کریں۔چنانچہ ایک لمبا عرصہ قومی اسمبلی نے اس سلسلہ میں وقت خرچ کیا اور بھٹو صاحب کو قومی اسمبلی کا عذر ہاتھ آ گیا اور انہوں نے یہ کہہ دیا کہ اب میں کیا کر سکتا ہوں۔لیکن اس حیا کا موجودہ حکومت میں فقدان ہے اس لئے کہ یہ نہ عوامی حکومت ہے نہ اسے بیرونی دنیا میں کسی رائے عامہ کی پرواہ ہے۔ایک آمر بہر حال ایک آمر ہی ہوتا ہے اس لئے بظاہر وہ جتنی مرضی کوششیں کرے لیکن آمریت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ جو کچھ بھی ہو ، جو کچھ بھی دنیا کہے اس کی پرواہ نہیں کرنی۔آمریت کے مزاج میں یہ بات داخل ہے کہ