خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 616 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 616

خطبات طاہر جلدم 616 خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۸۵ء گا۔۔۔۔۔یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لیے بلاتا ہے“ عجیب شان کا یہ کلام ہے ذرا غور تو کریں۔کہاں یہ دلنوازیاں اور دلداریاں کہ راہ مولیٰ میں ایک حقیر پیسے کو اتنی عظمت دے دینا اور محبت اور پیار سے اس کا ایساذکر کرنا کہ گویا زمین کو آسمان بنادیا جائے۔رائی کے پہاڑ تو آپ نے بنتے دیکھے تھے مگر ان میں بھی اتنا نمایاں فرق نہیں جتنا ایک پیسے کو سونے کے پہاڑوں میں تبدیل کر دینے میں فرق ہے اور جب خدا کا مسیح کہتا ہے تو مبالغہ آمیزی نہیں ہے واقعہ حقیقت میں اتنا ہی تو اب ان لوگوں نے کمایا جتنا آپ نے ذکر فر مایا۔کہاں غریبوں کی یہ دلداریاں اور دل نوازیاں اور کہاں پھر ان کے لئے جن کے دل میں قربانی عجب پیدا ہو جاتا ہے ان کے لئے یہ تنبیہ ہے کہ ان کی ساری بڑائی کے خیال کو ملیا میٹ کر کے خاک کر کے۔یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آیا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لئے بلاتا ہے۔“ جماعت کے متعلق آپ کی جو نیک تمنائیں ہیں اس کا ذرا اندازہ کریں فرماتے ہیں: " مجھے اس سے زیادہ کوئی حسرت نہیں کہ میں فوت ہو جاؤں اور جماعت کو ایسی نا تمام اور خام حالت میں چھوڑ جاؤں۔میں یقینا سمجھتا ہوں کہ بخل اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔“ میں تم میں بہت دیر تک نہیں رہوں گا اور وہ وقت چلا آتا ہے کہ تم پھر مجھے نہیں دیکھو گے اور بہتوں کو حسرت ہوگی کہ کاش ہم نے نظر کے سامنے کوئی قابل قدر کام کیا ہوتا“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کے ایک ایک جزو پر آپ غور کریں اور غوطہ