خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 612 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 612

خطبات طاہر جلد۴ 612 خطبہ جمعہ ۱۲ ؍ جولائی ۱۹۸۵ء تھا پیش کیا۔ہوش آئی اور پھر کچھ دن کھلا پلا کر اس کو فارغ کیا۔افریقہ کے اکثر ممالک فاقہ کشی اقتصادی نہایت ہی درد ناک حالات ہیں۔وہاں کے سب مبلغین نے یہ اطلاع دی اور اللہ تعالیٰ کی حمد میں آنسو بہاتے ہوئے یہ اطلاع دی کہ جب انہوں نے چندوں کی تحریک کی تو ہر موقع پر خدا کے فضل سے پہلے سے نمایاں طور پر زیادہ چندہ وصول ہوا اور ہم حیران ہو کر گھروں کو واپس لوٹا کرتے تھے کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔وہ ممالک جو غیروں سے امداد لے کر زندہ رہ رہے ہیں جب خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ اپنی تنگی ، اپنے دکھ اور اپنی تکلیفوں بھول کر وہ خدا کی راہ میں قربانی میں آگے ہی قدم بڑھا رہے ہیں، پیچھے نہیں ہٹ رہے اور پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں کی بارش ان پر برسا رہا ہے ، ان میں غیر معمولی ترقی ہو رہی ہے۔خدا تعالیٰ حیرت انگیز طور پر ان کے مسائل حل کرتا ہے، ان کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے، اپنے قرب کے حیرت انگیز معجزے ان کو دکھا رہا ہے۔اور افریقن جنگلوں میں بسنے والے احمدی اللہ کے قرب کے نشانات کے ایسے ایسے حیرت انگیز واقعات لکھتے ہیں کہ دل حمد سے بھر کر خدا کی راہ میں چھلکنے لگتا ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ یہ کیوں ہوا ہے ایسے؟ قرآن کریم تو وہی قرآن کریم ہے جو سب مسلمانوں میں خواہ وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں قدر مشترک ہے اور ہماری مالی قربانیوں کی تمام تر بنیاد قرآن کریم میں ہے۔تو اسی قرآن سے تعلق جوڑ کر ایک طرف تو یہ نظارے نظر آرہے ہوں اور اسی قرآن سے تعلق کا دعویٰ کر کے دوسری طرف وہ نظارے نظر آرہے ہوں کہ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِبُونَ (الواقعہ :۸۳) کیا تم نے رزق کا یہ ذریعہ بنالیا ہے کہ تکذیب کرو گے تو روٹی ملے گی۔اس لئے تکذیب کرتے چلے جاؤ ، گالیاں دیتے چلے جاؤ اور لوگوں کو بھی بھڑکاؤ ، تکذیب کر کے اور گھروں کو آگ لگا کر اور مال لوٹ کر اپنے رزق کو بڑھانے کی۔یہ دو مختلف نقشے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ ہم نے اس زمانے میں پیدا ہونے والے اس کے امام کو قبول کر لیا جس نے یہ اعلان کیا تھا کہ مجھے خدا نے بھیجا ہے اور اس لئے بھیجا ہے کہ قرآن کریم کو ایک زندہ کتاب کے طور پر دوبارہ تمہارے سامنے پیش کروں اور اس لئے مجھے بھیجا ہے کہ جو اس کی تعلیم کو دلوں سے بھلا دیا گیا ہے اس کو دوبارہ راسخ کر دوں۔اس کے حسن کو تم پر ظاہر کروں۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قوم کو جو آداب سکھا گئے تھے اور جو اسلوب بتا گئے تھے کہ