خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 594
خطبات طاہر جلدم 594 خطبہ جمعہ ۵/ جولائی ۱۹۸۵ء ریزہ کر دیا۔جب بجائے اس کے کہ وہ غالب آتے فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ (البقره: ۲۵۹) کا نظارہ دیکھا گیا۔جب وہ اپنے گریبانوں میں منہ ڈالتے ہوئے غور کرنے لگے کہ ہم تو ہر لحاظ سے مار کھا چکے ہیں پوری طرح ہماری شکست ہوگئی۔تب انہوں نے کہا کہ اب تو سوائے اس کے چارہ کوئی نہیں قتل کر دیا آگ بھڑکاؤ اور اس میں ڈال دو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَانْجُهُ اللهُ مِنَ النَّارِ ہروہ شخص جو خدا کی خاطر آگ کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جایا کرتا ہے اللہ اسے ضرور آگ سے نجات بخشتا ہے۔اس وقت ان کی نفرتوں کا حکم جاری نہیں ہوتا ، خدا کی محبت کی تقدیر جاری ہوتی ہے اور وہ اپنے پیاروں کو ان کی بھڑکائی ہوئی جہنموں میں جلنے نہیں دیا کرتا۔اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ اس بات میں تو ایمان لانے والوں کے لئے بہت سے نشانات ہیں۔اب یہ بہت ہی پیارا طریق بیان ہے قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کے اوپر تو قدم قدم پر جان نچھاور ہوتی ہے بظاہر ذکر ایک شخص کا چل رہا ہے اور واحد کا صیغہ استعمال ورہا ہے۔جب مضمون ختم کیا تو فرمایا اِنَّ فِي ذلِكَ لَايَتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ۔کہ اگر ایک ہی واقعہ ہوا تھا آگ میں پڑنے اور آگ سے نکالے جانے کا اگر ایک ہی دفعہ یہ ہوا تھا کہ خدا کی خاطر آگ میں چھلانگ لگانے والے کے لئے آگ کو گلزار کر دیا گیا تھا تو ایک ہی نشان ہوا اس میں سوچنے والوں کے لئے سینکڑوں، ہزاروں نشان کیسے ہو گئے ؟ مگر خدا فرماتا ہے اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ خوشخبری دے رہا ہے کہ یہ ایک آگ کا واقعہ ایک ہی نہیں رہا کرتا اور آگ کو جو گزار بنایا جاتا ہے یہ بھی ایک دفعہ واقعہ نہیں ہوتا۔مومنوں کی زندگی میں کثرت سے ایسے نشان پھیلے پڑے ہیں۔یہ بار بار ہونے والا واقعہ ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے ( تذکرہ صفحہ ۳۲۴) اور احمدیوں نے بکثرت آگ کو گلزار بنائے جانے کے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔تو فرماتا ہے لوگ تو تاریخ کی باتیں کرتے ہیں اور قرآن کریم کو تاریخ کی ایک ایسی کتاب سمجھتے ہیں جو گزشتہ زمانے کے قصے بیان کر رہی ہے مگر جو تصویر میں ہم بناتے ہیں ہم انہیں زندہ بھی کر دیا کرتے ہیں ہر زمانے میں ان میں پھونکتے روح اور پھر ان کو گلیوں اور بازاروں میں چلا کے