خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 574 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 574

خطبات طاہر جلدم 574 خطبہ جمعہ ۱۲۸ جون ۱۹۸۵ء کے درمیان فرق نہیں ہے بلکہ تُفَرِّقُوا بَيْنَ اللهِ وَرُسُلِیم اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان ایک فرق پیدا کر دیا گیا ہے اور بیچ میں کچھ پہرے دار بیٹھ گئے ہیں کہ ہماری مرضی سے وحی جائے گی ہماری مرضی سے وحی رکے گی۔جس کے متعلق ہم چاہیں گے جاری کریں گے اور جس کے متعلق کہیں گے نہیں ، وہ نہیں جاری ہو سکے گی اور اس میں اہم نکتہ یہ ہے کہ خدا اور بندے کے درمیان کوئی چیز ہے ہی نہیں آہی نہیں سکتی اس لئے حتمی طور پر اور یقینی طور پر کوئی شخص یہ کہہ ہی نہیں سکتا کہ خدا نے کسی سے کلام کیا تھا کہ نہیں کیا تھا، وہ مقام خوف ہے، مقام ادب بھی ہے وہاں زبان نہیں کھلنی چاہئے۔چنانچہ قرآن کریم اس مقام سے متعلق ایک دوسری جگہ فرماتا ہے وَ اِنْ يَّكَ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ (المومن :۲۹) زیادہ سے زیادہ تمہیں یہ فکر ہو سکتی ہے کہ جھوٹ بول رہا ہو گا۔جھوٹ بولا ہے تو نہ مانو اور جہاں تک جھوٹ کا تعلق ہے اس کے جھوٹ کا وبال تم پر کیسے پڑسکتا ہے جو تمہیں تکلیف ہو رہی ہے جو جھوٹا ہے وہ اپنا وبال آپ اٹھائے گا اپنی قبر میں آپ پڑے گا اور خود اپنی موت مرے گا۔فَعَلَيْهِ كَذِبُه خدا کوئی نا انصاف تو نہیں کہ اس کے جھوٹ کا عذاب تمہیں دے دے اس لئے تمہیں ساری کیا تکلیف ہورہی ہے۔تم کہہ دو ہمیں نہیں دل میں تسلی ہوتی ہم نہیں مانتے چپ کر کے بیٹھ جاؤ لیکن یہ بیچ میں جا بیٹھو خدا اور اس کے رسولوں کے درمیان اور یہ فیصلہ کرو کہ ہم تفریق کریں گے۔بعضوں کو خدا کا رسول قرار دیں گے اور بعضوں کو کہیں گے ہمیں علم ہے ہم بیچ میں بیٹھے ہوئے تھے ہم نے تفریق کی ہوئی ہے ان کو ہم نہیں مانتے۔فرمایا یہ نہیں ہوسکتا مگر یہ ہوتا ہے کرتے اس طرح ہوا اپنی طرف سے۔یہ جائز نہیں ہے مگر کرتے ہو اور بعینہ یہی حال ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ (ین: ۳۱) کیسی حسرت ہے بندوں فرمایا مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِ ْونَ کوئی رسول ان کے پاس نہیں آتا مگر اس کے ساتھ ٹھٹھا اور مذاق اور تمسخر کرتے ہیں اور آج پاکستان میں اور پاکستان سے باہر دنیا کے مختلف ملکوں میں بھی جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ان کے پاس کوئی دلیل نہیں سوائے تمسخر کے۔نہایت بے ہودہ سرائی اور پھر یہ بھی نہیں سوچتے کہ جو بات ہم کہہ رہے ہیں اس کی زدکس پر پڑتی ہے اور اس تمسخر کے نتیجہ میں ہم