خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 573 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 573

خطبات طاہر جلدم 573 خطبه جمعه ۲۸/ جون ۱۹۸۵ء إِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا أُولَيْكَ هُمُ الْكَفِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكُفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا (النساء۱۵۱_۱۵۲) وہ لوگ جو انکار کرتے رہے ہیں ہمیشہ الَّذِيْنَ يَكْفُرُونَ جو خدا کا انکار کیا کرتے ہیں اوراس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں۔اور وہ چاہتے ہیں کہ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللهِ وَرُسُلِهِ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فاصلے ڈال دیں تفریق کردیں وَ يَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضِ اور کہتے ہیں کہ بعض پر تو ہم ایمان لائیں گے اور بعض کا انکار کریں گے وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا اور چاہتے ہیں اپنی مرضی سے بیچ کی راہ پکڑ لیں جس کو چاہیں مان لیں جس کو چاہیں انکار کر دیں أولَبِكَ هُمُ الْكَفِرُونَ حَقًّا ہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے نزدیک پکے کافر ہیں وَاعْتَدْنَا لِلْكُفِرِينَ عَذَابًا مُّهِيْنا اور ہم نے کافروں کے لئے عذاب مھین مقرر فرمایا ہے۔یہ بھی عجیب قرآن کریم کی آیت ہے تاریخ کا ایک ایسا پہلو اس میں محفوظ کیا گیا ہے جو ہمیشہ سے اسی طرح چلا آرہا ہے اور ہر دفعہ قوم اس پہلو کو دہراتی ہے اور نہیں جھتی کہ دراصل جب ہم نبیوں میں تفریق کرتے ہیں تو اللہ اور اس کے نبیوں میں تفریق کررہے ہوتے ہیں تُفَرِّقُوا بَيْنَ اللهِ وَرُسُلِهِ ہم خدا اور اس کے بھیجے ہوؤں کے درمیان حائل ہونا چاہتے ہیں یہ مراد ہے۔جب وہ کہتے ہیں کہ بعض کو ہم مانیں گے اور بعض کو نہیں مان گے تو گویا خدا اور نبیوں کے درمیان پہرے بیٹھ گئے بعض کی وحی نہیں پہنچنے دیں گے اور بعض کی آگے جاری کر دیں گے گویا کہ خدا اور رسولوں کے درمیان انسپکٹر بیٹھ گئے ہیں اور وہ بیچ میں تفریق ڈالنے والے بیٹھ گئے ہیں۔یہ بہت ہی بار یک نکتہ ہے اور بہت لطف آتا ہے اس پر غور کرنے سے کہ بظاہر تو یہ سمجھ آجاتی ہے کہ نبیوں کے درمیان فرق کر رہے ہیں، یہ تو عام بات ہے لیکن خدا تعالیٰ اس کا تجزیہ یہ کر رہا ہے کہ یہ دراصل نبیوں