خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 51
خطبات طاہر جلد۴ 51 خطبه جمعه ۲۵/جنوری ۱۹۸۵ء شدت نظر نہیں آتی تھی۔اب خدا کے فضل سے جماعت میں ایسا حوصلہ ایسا عزم اور پھر قربانیوں کے ایسے بلند ارادے پیدا ہو گئے ہیں جو پہلے نظر نہیں آتے تھے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس پہلو سے بھی حکومت مخالفانہ کوشش میں ناکام ہوگئی ہے۔جہاں تک پہلی کوشش کی ناکامی کا تعلق ہے امر واقعہ یہ ہے کہ جماعت کے دوستوں کی طرف سے جتنی بھی اطلاعات ملتی ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ ہر وہ پاکستانی جو احمدی نہیں ہے جب وہ تکذیب پر دستخط کرتا ہے تو اس کے اندر خوف کا ایک احساس جاگتا ہے۔وہ اپنے دل میں یہ سوال اٹھتا ہوا محسوس کرتا ہے کہ جس شخص کی میں تکذیب کر رہا ہوں اس کے دعوئی کی جانچ پڑتال میں نے کر بھی لی تھی کہ نہیں۔میں نے اس کے دعویٰ کے بارہ میں تحقیق کر کے پورے اطمینان سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ شخص جھوٹا ہے یا محض اپنے دنیوی مفاد کی خاطر مجبور ہوکر اور ذلت کے ساتھ تکذیب پر دستخط کرنے پر پابند کیا گیا ہوں۔یہ ایک عام احساس ہے جو لوگوں میں پیدا ہو رہا ہے۔چنانچہ ضمیر کو جھنجھوڑنے کا جو سامان ہم نہیں کر سکتے تھے وہ اللہ کی تقدیر نے اس طرح کروا دیا ہے۔ورنہ اس سے پہلے احمدیت کے بارہ میں عدم دلچپسی عام تھی ، لا علمی عام تھی اور امر واقعہ یہ ہے کہ گومختلف فرقوں میں مسلمان بٹے ہوئے ہیں لیکن ان میں سے ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو جانتے ہیں کہ اُن کے عقائد کیا ہیں، ان کی اسلامی نظریاتی بنیاد کیا ہے، اسلام کے وہ کون سے عملی تقاضے ہیں جن کو انہوں نے پورا کرنا ہے۔غرض ایک قسم کی غفلت کی حالت ہوتی ہے جس میں بظاہر مختلف فرقوں میں بے ہوئے لوگ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اور چونکہ ان کو جماعت احمدیہ کے متعلق بھی علم نہیں تھا اس لئے ان میں جماعت کے بارہ میں کوئی دلچسپی پیدا نہیں ہو رہی تھی۔اُن میں بہت کم لوگ تھے جو اس وجہ سے مخالفت کرتے تھے کہ وہ سمجھتے تھے کہ جماعت احمدیہ ( نعوذ باللہ ) جھوٹی ہے۔جبکہ بڑی بھاری تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو مولویوں کے ڈر سے اور عوام الناس کے دباؤ کے پیش نظر خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے۔لیکن اب پاکستان کے کونے کونے میں احمدیت کا چرچا ہے۔ایسے علاقوں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچ گیا ہے جہاں کسی احمدی نے کبھی جھانک کر بھی نہیں دیکھا تھا۔وہاں نہ صرف احمدیت سے لوگ متعارف ہورہے ہیں بلکہ انسانی ضمیر کو کچوکے دیئے گئے ہیں کیونکہ کلیہ لاعلم آدمیوں کو بھی ایک ایسے فیصلہ پر مجبور کیا گیا ہے جس کے وہ مجاز نہیں تھے۔پس