خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 50
خطبات طاہر جلد۴ 50 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۵ء گے اُن کے کام نہیں چل سکیں گے۔چنانچہ اس طرح پاکستان کی موجودہ حکومت نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کو ایک عوامی شکل دے دی ہے۔تاہم یہ کوئی ایسی عوامی تحریک نہیں کہ جس میں لوگوں کے دل سے از خود یہ خواہش اُٹھے بلکہ یہ ملک کا موجودہ قانون ہے جو ہر پاکستانی شہری کو مجبور کر رہا ہے کہ یا تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کرے یا بعض مفادات سے محروم رہ جائے۔یہاں تک کہ اب ووٹ دینے کا حق بھی کسی پاکستانی کو نہیں مل سکتا جب تک کہ وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب نہ کرے اور بکثرت ایسی مثالیں پاکستان کے اندر بھی اور پاکستانی شہریوں میں سے اُن کی جو باہر بستے ہیں ہمارے سامنے آتی ہیں کہ وہ اس پر احتجاج کرتے ہیں اور کھلم کھلا یہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ مرزا صاحب کیا تھے اور کیا واقعۂ خدا تعالیٰ نے انہیں بھیجا بھی تھا کہ نہیں۔اس لئے یہ گناہ ہمارے سر پر نہ رکھو۔لیکن چونکہ اس کے بغیر اُن کے کام نہیں چل سکتے اور اُن کو مجبور کیا جاتا ہے اس لئے اُن میں سے بھاری تعداد تکذیب پر دستخط کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔تکذیب کا ایک دوسرا طریق یہ اختیار کیا جا رہا ہے کہ احمدیوں کو اُن کے مفادات سے محروم رکھا جا رہا ہے، اُن پر مظالم توڑے جار ہے ہیں ، اُن پر ظلم کرنے والوں کی تائید کی جارہی ہے۔احمدیوں کے مال لوٹنے والوں کو تحفظ دیا جارہا ہے اور اُن کی جان پر حملے کرنے والوں کو حکومت کی چھتری کے تلے امن مل رہا ہے جبکہ احمدیت کے حق میں گواہوں کو یا احمدیوں کے حق میں آنے والے گواہوں کو جھٹلایا جاتا ہے اور مخالف فریق کے فرضی گواہوں کو بھی تسلیم کر لیا جاتا ہے۔غرضیکہ اس نوع کے بکثرت دباؤ ہیں مثلاً ملازمتوں سے محروم کر دیا جاتا ہے ، طلباء کو تعلیم کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ اور اسی قسم کے بعض دوسرے دباؤ روز مرہ کی زندگی میں اس کثرت سے ڈالے جارہے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طریق پر احمدی بھی بالآخر تنگ آکر احمد بیت کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔لیکن جیسا کہ تمام دنیا جانتی ہے اور پاکستان میں بھی اب یہ احساس بڑی شدت سے پیدا ہو رہا ہے کہ یہ سارے ذرائع احمدیوں کو احمدیت سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوئے بلکہ اس کے بالکل برعکس نتیجہ نکلا ہے۔خدا کے فضل سے اتنی شدت اور قوت کے ساتھ ایمان اُبھرے ہیں اور اخلاص میں ترقی ہوئی ہے اور قربانیوں کی نئی امنگیں پیدا ہوئی ہیں کہ اس سے پہلے اس قسم کی کیفیت اور