خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 532
خطبات طاہر جلدم 532 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء وضاحت فرما دیتا ہے کہ اس سے تمہارا چوبیس گھنٹے والا دن مراد نہیں بلکہ ایک وسیع زمانہ مراد ہے۔اسی طرح لیل اگر چہ عموماً اس رات کے متعلق کہا جاتا ہے جو سورج غروب ہونے اور سورج طلوع ہونے کے درمیان کا زمانہ ہے لیکن لیلۃ ایک ایسی رات کو بھی کہا جاتا ہے جو ایک لمبے عرصہ تک پھیلی ہو اور ایک پورا زمانہ اس میں پایا جاتا ہو۔چنانچہ قرآن کریم نے لیلۃ کا لفظ استعمال فرما کر اس مضمون کو بہت وسعت عطا فرما دی۔جہاں تک قدر کے معانی کا تعلق ہے جب ہم ان پر غور کرتے ہیں تو یہ مضمون بہت ہی زیادہ وسیع ہو جاتا ہے اور ایک یا دو یا چار یا دس خطبوں میں یا اس سے زیادہ وقت میں بھی اسے سمیٹا نہیں جاسکتا۔گزشتہ سال اسی موقع پر میں نے لفظ قدر کے مختلف معانی کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض امور احباب جماعت کے سامنے رکھے تھے۔آج صرف اس کے ایک پہلو سے میں جماعت کے سامنے کچھ باتیں پیش کرنی چاہتا ہوں اور وہ ہے قدر معنی کسی کی خدمات کی قدر کرنا کسی کی نیکیوں کی قدر کرنا۔کسی کی اچھی باتوں کی قدر کرنا اور قدر کا یہ معنی بھی قرآن کریم سے ثابت ہے۔چنانچہ قرآن کریم لفظ قدر کو ان معنوں میں استعمال کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں کی، اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کی اور وہ پہچان نہیں سکے۔قدر بعض دفعہ بندے کرتے ہیں اور بعض دفعہ خدا قدر فرماتا ہے اور یہ مضمون دونوں پر یکساں چسپاں ہوتا ہے۔پس لیلۃ القدر کا ایک مفہوم یہ ہے کہ وہ رات جس رات میں قدر کی جائے گی۔کچھ لوگ اپنے رب کا عرفان حاصل کریں گے اور اس کے احکامات کی قدر کریں گے اور اس کی خاطر اور ان احکامات کی خاطر اپنے رب کی اطاعت کے لئے قربانیاں پیش کریں گے اور کچھ ان کی قدر جائے گی اور سب سے زیادہ قدر کرنے والا ان کا خدا ہے جو ان کی قربانیوں پر ان کی قدر فرمائے گا۔پس یہ قرآن کریم کا یہ اسلوب جیسا فرمایا اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرِيكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِة یہ جو ما ادراک کا محاروہ ہے جسے قرآن کریم استعمال کرتا ہے تو یہ اسلوب بتاتا ہے کہ آگے جو مضمون آرہا ہے یہ سطحی مضمون نہ سمجھا جائے۔ویسے تو قرآن کریم کا کوئی مضمون بھی سطحی نہیں مگر بعض جگہ غیر معمولی گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔جس طرح دریا کے پاٹ میں مختلف گہرائی میں پانی چلتا ہے اور جب زیادہ گہرا ہو جائے تو بعض دفعہ اس کے اوپر توجہ کی خاطر تختیاں لگادی جاتی ہیں کہ اس جگہ