خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 520 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 520

خطبات طاہر جلد۴ 520 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء کر رہے ہیں جسم کے حصے۔اس لئے آپ صحت مند پھرتے ہیں اللہ کے فضل سے الا ماشاء اللہ کوئی آدمی کبھی کمزور ہوتو بیمار ہو جاتا ہے لیکن اگر اندرونی نظام بگڑ جائیں تو دیکھتے دیکھتے ہر قسم کی بیماریاں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔اسی فضاء جہاں ایک صحت مند انسان سانس لے رہا ہے ایک آدمی مدقوق مسلول اور کئی بیماریوں کا شکار مارا ہوا ہر قسم کے دکھ اٹھانے والا آپ کو نظر آرہا ہو گا اس لئے کہ اس کا اندرونی نظام بگڑا ہوا ہے۔جب اندرونی نظام بگڑتے ہیں تو غیروں نے بہر حال قبضہ کرنا ہے صرف پھر یہ سوال رہ جاتا ہے کہ باہر کی قومیں آکر قبضہ کریں یا اپنی قوم قبضہ کر لے، اپنی قوم کے جراثیم قابض ہو جائیں۔اس وقت تو یہ پیج ہے پاکستان کی۔اپنی قوم کے جراثیم قابض ہوئے بیٹھے ہیں اور ایک مردار کی طرح سلوک کیا جا رہا ہے۔ایک ایسے نڈھال لاغر مریض کی طرح سلوک کر رہے ہیں بعض ظالم اپنی قوم کے ساتھ جانتے ہیں کہ ان میں دفاع کی کوئی طاقت باقی نہیں رہی اور سیاست دان ایک دوسرے کو معتوب کر رہے ہیں۔کبھی پنجابی پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں، کبھی کسی نظام پر ذمہ داری ڈال رہے اور نہیں دیکھ رہے کہ اول اس بات کی ذمہ دار ملائیت ہے۔ملائیت قابض ہوئی ہے اس کو پہلے تم نے جگہ دی ہے۔ظالمانہ سلوک کیا ہے اپنے ساتھ اپنے مفادات کے ساتھ اور قوم کے مفادات کے ساتھ ، خودشہ دی ہے، ان کو اٹھایا ہے۔جب انہوں نے ایک معصوم جماعت کے اوپر زبان درازیاں کیں، گندے حملے کئے ان کے اموال لوٹنے کی تعلیم دی تم خوش ہو کر بیٹھے رہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس طاقت کو تم اپنے لئے استعمال کرو گے اور کرتے بھی رہے لیکن اب یہ چیز تمہارے اوپر قابض ہوگئی ہے اور وہ وقت آچکا ہے کہ اگر اب تم بیدار نہ ہوئے تو اس ملک کا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔نہایت بھیانک خطرات ظاہر ہو چکے ہیں۔فوج جب لمبا عرصہ قبضہ کرتی ہے تو بعض دفعہ اس کے لئے قبضہ چھوڑنے کی گنجائش بھی نہیں رہا کرتی کیونکہ پھر وہ سزا دیکھتی ہے سامنے۔اس کو نظر آرہا ہوتا ہے کہ اتریں گے تو جن کے ہاتھ میں طاقت آئے گی، جن کے حق ہم نے دبائے ہوئے تھے وہ اپنے انتقامات لیں گے۔یہ تو ہوہی نہیں سکتا کہ سارا ملک گندہ اور بد کردار ہو اور اس ملک کا ایک شعبہ بالکل صاف سو فیصدی درست اور صالح ہو۔جب قوم کے اخلاق گر رہے ہوتے ہیں تو فوج بھی تو اسی قوم میں سے بنتی ہے ، ان کا خمیر بھی تو اسی