خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 518 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 518

خطبات طاہر جلدم 518 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء ٹی۔ٹی کو مل رہے ہیں مثلاً یہ تو انفرادی نقصانات ہیں اتنے زیادہ نہیں مگر جو تجارتی نقصانات ہیں وہ غیر معمولی ہیں۔اربوں روپیہ حکومت کو جو جانا چاہئے تھاوہ آپس میں سمجھوتے کے ذریعہ یہ حکام اور کارندے لے جاتے ہیں اور مصنوعی کا رروائی کر کے اگر دو بوگیاں دی گئی ہیں تو ایک لکھ دی گئی ہے اگر دس دی گئیں ہیں تو پانچ لکھ دی گئیں ہیں۔بہر حال آپس میں ایسے سمجھوتے جاری ہیں جس کے نتیجہ میں نقصان ہوتا ہے اور جو پیسہ نہیں دیتا وہ بوگیاں جو خالی پڑی رہ جاتی ہیں وہ الگ نقصان ہورہا ہے۔چنانچہ میں نے ایک دفعہ پاکستان میں ایک بڑے سینئر آفیسر سے اس بارے میں بڑی گفتگو کی تفصیلی چھان بین کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ہمیں علم ہے کیا ہو رہا ہے۔ہم بے بس ہیں بالکل جو مرضی حکومت کر لے اب یہ نظام اتنا گہرا ہو چکا ہے ، اتنا پھیل گیا ہے کہ اس کی بیخ کنی کر ہی نہیں سکتی۔ریلوے کے اخراجات تو حکومت پاکستان برداشت کر رہی ہے اور ریلوے کے فوائد بد دیانت ملازم حاصل کر رہے ہیں۔اب آپ دوسری طرف آئیے ! وا پڑا جو کتنی اہم ضرورت کے لئے بنائی گئی یعنی تمام انرجی کے اوپر اس کی مناپلی ہے امر واقعہ یہ ہے کہ بجلی میں شاید ہی کہیں کسی ملک میں اتنی بڑی Monopoly کسی ادارے کو حاصل ہوئی ہو جتنی واپڈ کو حاصل ہے۔اور اتنی بد دیانتی ہے نیچے سے اوپر تک کہ باہر بیٹھا انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور ظلم اور سفا کی ہے اُس بد دیانتی میں۔انفرادی سطح پر یہ حال ہے کہ اگر کوئی زمیندار رشوت دیتا ہے تو اس کے بل کسی اور کے نام منتقل ہوتے رہتے ہیں اور جو زمیندار رشوت نہیں دیتا اس کے نام دوسرے کے بل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ایک عام رواج بن گیا ہے اور پھر انتقامی کارروائیاں اس طرح کی جاتی ہیں کہ اگر کوئی شخص رشوت نہیں دیتا تو عمد البعض Phase بجلی کے بند کر کے اس کی موٹرمیں جلائی جاتی ہیں اور ایسے وقتوں میں جلائی جاتی ہیں جبکہ فصل پکنے کو تیار ہو اور یہ روز مرہ کا دستور ہے۔اس میں کوئی چھپی ہوئی بات ہی نہیں ہے۔اربوں روپے ضائع ہو رہے ہیں ملک کے موٹروں کی Re-Winding کے اوپر اور ان فصلوں کے نقصان کی صورت میں جو پک سکتی تھیں مگر وقت پر پانی نہیں مل سکا، بجلی مہیا نہیں کی گئی وہ نہیں پک سکیں۔ان گنت نقصانات ہیں آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کتنے نقصانات ہیں ان باتوں کے اور پھر اس کے علاوہ جو شدید نقصانات یہ ہیں کہ وہ اوپر کی سطح پر جو کروڑوں اور اربوں روپے رشوت میں لے