خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 508 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 508

خطبات طاہر جلدم 508 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء ہیں کہ عملاً اس فساد کے بعد فوج کو کمزور کرنے کی باقاعدہ سازش کی گئی اور ابن علقمی نے رفتہ رفتہ ایک منصوبے کے مطابق مرکزی فوج کو منتشر کرنا شروع کیا اور خلیفہ وقت کو یہ بتایا کہ یہ سرحدوں کی حفاظت کے لئے باہر بھجوائی جارہی ہے اور امر واقعہ یہ تھا کہ اکثر کو فارغ کر دیا گیا اور منتشر کر دیا گیا اور جب بغداد میں کوئی حفاظت کا انتظام باقی نہیں رہا پھر اس نے پیغام بھجوایا ہے۔اور ایک اور بد قسمتی عباسی حکومت کی یہ تھی کہ اس وقت نصیر الدین طوسی جو مشہور فلسفہ دان اور حساب دان ہیں وہ ہلا کو کے دربار میں بہت مرتبت رکھتے تھے اور بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور ہلاکو خاں کو ان پر بہت اعتماد تھا۔جب ابن علقمی نے پیغام بھیجنے شروع کئے تو ہلا کونے نصیر الدین سے مشورہ کیا اس نے بھی کہا کہ ہاں اس حکومت میں اب کچھ بھی باقی نہیں رہا اس لئے حملہ مناسب رہے گا۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں پھر بغداد کی تباہی ایسے خوفناک طریق پر کی گئی ہے کہ تاریخ عالم میں شاید ہی کوئی ایسا شہر اس درد ناک رنگ میں تباہ کیا گیا ہو۔بعض مورخین کہتے ہیں کہ 15 سے 16 لاکھ تک جانیں تلف ہوئیں۔ابن خلدون بیان کرتے ہیں کہ ایک کڑور سے زائد جانیں تلف ہوئی ہیں۔عورتیں اور بچے اور بوڑھے اور جوان سروں پر قرآن اٹھائے ہوئے دہائیاں دیتے ہوئے گلیوں میں نکلے اور خدا تعالیٰ کو قرآن کی عظمت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اُس سے التجائیں کرتے رہے لیکن جب تو میں آپس میں اندرونی طور پر باہمی ایک دوسرے سے لڑ کر اپنی ہلاکت کا فیصلہ کر لیا کرتی ہیں تو پھر اللہ تعالی کی طرف سے کوئی تقدیران کو نہیں بچایا کرتی إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ (الرعد :۱۲) اللہ تعالى فرماتا ہے، ہم نعمتیں واپس نہیں لیا کرتے لیکن جب کوئی قوم خود اپنی نعمتیں اپنے ہاتھ سے پھینک دیتی ہے اور وہ تبدیل کر دیتی جو ہم نے اس کو عطا کیا ہے اس وقت پھر خدا کی تقدیر اس قوم کی ہلاکت کا فیصلہ کر لیا کرتی ہے۔وَإِذَا اَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوءًا پھر جب اللہ کی تقدیر یہ فیصلہ کر لے کہ اس قوم کو برائی پہنچے گی تو کوئی اس کو بچا نہیں سکتا اس فیصلہ کی راہ میں کوئی روک نہیں ہوسکتی۔چنانچہ وہی منظر نظر آتا ہے کہ خود اپنے ہاتھوں سے جو لعنت اور مصیبت بلائی گئی تھی اس کو پھر کوئی دعا روک نہیں سکی۔کیونکہ خدا نے پہلے ہی قرآن کریم میں اس تقدیر کی کھلے لفظوں میں خبر دے دی تھی۔بہر حال بعض مصنفین تو صرف اتنا لکھتے ہیں کہ ایسا دردناک واقعہ ہے کہ ہمارا قلم چلتا ہی