خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 507
خطبات طاہر جلد۴ 507 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء اور خلیفہ قائم بامر اللہ نام کا قائم بامر اللہ تھا عملا نہ وہ قائم تھا نہ کوئی امر اللہ کی صفات اس میں پائی جاتی تھی۔چنانچہ وہ بالکل بے حس اور بے طاقت ہو کر ان باتوں کو دیکھتا رہا اس کی کچھ پیش نہیں گئی۔وہ فساد اسلامی مذہبی تاریخ میں ایک نمایاں حیثیت اس لئے رکھتا ہے کہ اس کے بعد پھر شیعہ اور سنی اختلافات بڑھتے ہی رہے ہیں اور پھر ان کے درمیان آپس میں شیعہ اور سنی فرقوں کے اندر صلح کا کوئی امکان پھر باقی نہیں رہا۔گہری نفرتیں پیدا ہوئیں اور انتقامی جذبات نسلاً بعد نسل منتقل ہوتے رہے۔یہاں تک کہ یہ جو طبعی نتیجہ اس کا ظاہر ہوا ہے یہ بھی ایک ایسے خلیفہ کے وقت میں ظاہر ہوا جس کا نام بھی عبداللہ تھا۔لیکن وہ عبداللہ بن منصور مستعصم باللہ کہلاتا ہے۔۶۴۰ ھ کے لگ بھگ یہ خلیفہ ہوا ہے اور ۶۵۶ ھ میں یہ قتل ہوا ہے اس کے دور میں بھی ایک نہایت ہی خوفناک شیعہ سنی فساد ہوا۔اور اس فساد کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں بادشاہ نے خود اپنے بیٹے کوبھجوا کر شیعوں سے انتقام لیا اور بغداد کا جو مغربی حصہ تھا جہاں زیادہ تر شیعہ آباد تھے وہاں خون کی ندیاں بہائیں اور مکان لوٹ لئے گئے اور آگئیں لگائی گئیں۔مورخین یہ کہتے ہیں کہ اس کی بنیاد اس طرح پڑی کہ ابن علقمی جو مستعصم باللہ کے شیعہ وزیر اعظم تھے، ان کو مستعصم باللہ نے بہت زیادہ کھل دے رکھی تھی اور چونکہ وہ وزیر اعظم تھے اور ان کا عمل دخل بہت تھا اس لئے شیعوں کو اتنی زیادہ شہد مل گئی کہ آغا ز اس فساد کا شیعوں کی طرف سے ہوا ہے۔انہوں نے مظالم کئے اور ان مظالم کے نتیجہ میں پھر مسلمان عوام جب اٹھ کھڑے ہوئے اس وقت بادشاہ وقت نے اپنے بیٹے کو بھجوایا کہ چونکہ عوام الناس کی اکثریت بہر حال سنی تھی اور وہ اپنی حکومت کے مفادات شاید اس میں دیکھتے تھے کہ اس وقت ان کی کھل کے مدد ہونی چاہئے تو بہر حال وہ قتل و غارت کا جو بازار وہاں گرم ہوا یہ وہ آخری شیعہ سنی فساد ہے جو عباسی حکومت میں ہوا ہے۔اس کے بعد بہت سے مؤرخین جن میں ذہبی بھی شامل ہیں ابن خلدون بھی اور الطقطقی بھی اور بہت سے مؤرخین ہیں جو اس بات پر متفق ہیں کہ اس اسلامی حکومت کی تباہی کا ذمہ دار یہ آخری فساد تھا کیونکہ اس کے بعد شیعہ وزیر اعظم ابن علقمی نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اس حکومت کو بہر حال تباہ کر وا دینا ہے۔چنانچہ ہلاکو خاں کو ابن علقمی نے پیغام بھیجنے شروع کئے اور مغرب سے اس کی توجہ ہٹا کر بغدادی حکومت کی طرف کروائی اور وہ جوڑ عب تھا اسلامی حکومت کا جو تا تاریوں کو اس طرف آنے نہیں دیتا تھا اس کا پول کھولا اور بتایا کہ اس فوج میں کچھ بھی باقی نہیں رہا اور مؤرخین کہتے