خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 42

خطبات طاہر جلدم 42 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۸۵ء کے غلام ہیں اور نفس کو جہاں سے فائدہ پہنچتا ہے وہاں وہ سر جھکانے کے لئے تیار ہیں۔تو کیسے ان کو فائدہ پہنچے گا پھر اگر وہ فتح کے بعد ایمان لائیں گے۔دوسرا اس میں ایک اور بھی مضمون ہے اور وہ یہ کہ فتح سے پہلے کے ایمان کے نتیجہ میں انسان۔دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوتا ہے اور ایمان کا ثواب اس چیز سے براہ راست تعلق رکھتا ہے اور دو طرح سے، کم سے کم دو طرح سے ایمان ایسے انسان کو فائدہ پہنچاتا ہے اول تو یہ کہ خدا کے منہ کی خاطر وہ دکھ اٹھا رہا ہوتا ہے۔آپکی خاطر کوئی ذراسی تکلیف اٹھائے تو آپ میں سے جو شرفاء ہیں ، شریف النفس لوگ ہیں بعض دفعہ آپ کا دل چاہتا ہے کہ ہم سب کچھ اس پر فدا کر دیں۔تو خدا کے متعلق تصور بھی آپ نہیں کر سکتے کہ وہ اپنی خاطر دکھ اٹھانے والوں سے کتنا پیار کرتا ہے۔تو وہ وقت جو خدا کا پیار حاصل کرنے کا تھا وہ تو کھو دیا انہوں نے۔جب خدا کی خاطر اپنے آرام چھوڑنے کا وقت تھا وہ تو انہوں نے ضائع کر دیا، اب جب وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا غلبہ کے وقت تمہیں کون دکھ پہنچائے گا ، اس وقت تمہارا ایمان تمہیں فائدہ نہیں دے سکتا۔دوسرا یہ کہ اندرونی اصلاح کے لئے بھی دکھ ضروری ہے جب تک انسان کسی اعلیٰ مقصد کی خاطر تکلیف نہیں اٹھا تا اس کے نفس کی اصلاح نہیں ہوتی۔چنانچہ ہمارا بھی تجربہ ہے کہ جماعت پہ جب آسائش کے دور آتے ہیں تو کچھ سستیاں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور جب تکلیف اور تنگی کے دور آتے ہیں تو اسی جماعت میں سے نئے نئے ہیرے چمکتے ہوئے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں، کیفیت بدلنے لگ جاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ جو قدرتی ایک خدا تعالیٰ نے کارخانہ بنا رکھا تھا تمہاری اصلاح کا وہ تو بند ہو گیا وہ دکھوں کے زمانے تو لڑ گئے اب تو فتح کے زمانے آگئے اب تم کس طرح اپنے نفس کی اصلاح کرو گے ان آزمائشوں میں سے گذرے ہی نہیں ہو جو آزمائشیں نفس کی اصلاح کیا کرتی ہیں۔وَلَا هُمْ يُنْظُرُونَ اور پھر بہت سے اُن میں سے ایسے بھی ہوں گے جن کو مہلت نہیں دی جائے گی یعنی ایمان فائدہ دے نہ دے یہ الگ بحث ہے، اس وقت تو اُن کے پکڑے جانے کا وقت آئے گا اور جب پکڑے جانے کا وقت آپہنچے تو پھر یہ کہنا کہ اب میں ایمان لے آتا ہوں اس کے تو کوئی معنی ہی نہیں رہتے ، کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔فَاعْرِضْ عَنْهُمُ اس لئے اے محمد اعلی ہے ان سے اعراض فرما اور وہ جو فتح کا دن پوچھتے ہیں ان کو یہ جواب نہ دے کہ کب دن آئے گا ان کو صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ تمہیں وہ دن فائدہ