خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 41

خطبات طاہر جلدم 41 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۸۵ء رہتے چنانچہ آج بھی اسی قسم کی باتیں بکثرت پاکستان میں ہو رہی ہیں اور لوگ مجھے لکھتے ہیں۔بعض بڑے لوگ بعض دنیا کی نظر کے چھوٹے لوگ، کچھ درمیانے سبھی یہ سوال کر رہے ہیں احمدیوں سے کہ تم ہمیں یہ بتا دو کہ فتح کب ہوگی اور اگر ہوگئی تو پھر ہم ایمان لے آئیں گے یعنی پاکستان کے تمام طبقات شامل ہیں اس بات میں اور بکثرت شمال سے لے کے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک، ہر جگہ یہ سوال ہورہے ہیں۔عامۃ الناس جو مولوی نہیں ہیں اس کو تو سمجھ آنے لگ گئی ہے کہ کوئی واقعہ ہو رہا ہے ہمارے سامنے اور ان کو یہ بھی پتہ چل گیا ہے کہ اس دفعہ اگر خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے معاندین کو رسوا اور ذلیل کیا تو یہ یقیناً احمدیت کی وجہ سے ہوگا جہاں تک ہمارا زور چلتا تھا ہم تو لگا بیٹھے ہیں ہم تو کچھ نہیں کر سکے۔اتنی بصیرت ان میں ضرور پیدا ہو چکی ہے اور وہ اگلا سوال کرتے ہیں اب ہمیں یہ بتا دو کہ کب فتح ہوگی پھر اگر ہوگئی اس دن یا اس مہینہ میں یا اس سال میں تو پھر ہم ایمان لے آئیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب فتح کا دن آئے گا لَا يَنْفَعُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا فتح سے پہلے جو منکر ہو چکے تھے جو انکار کر چکے تھے ان کو فتح کا دن کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ان کا ایمان لا طائل ہوگا، بریکار اور بے فائدہ ہوگا۔سوال یہ ہے کہ ایمان فائدہ کیوں نہیں پہنچائے گا۔ایک آدمی فتح دیکھ کر ایمان لے آتا ہے تو اس کو ایمان کا تو فائدہ پہنچنا چاہئے بظاہر۔اس سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو فتح کے بعد قدرتی طور پر طبعا اپنے نفس کی شرافت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھ کر ایمان لاتے ہیں بلکہ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جو غلبہ کے پجاری ہوتے ہیں اور غلبہ کی عبادت کرتے ہیں اس سے پہلے ان کو نشانات نظر آچکے ہوتے ہیں صداقت کے اور یہ جو سوالات دل میں اُٹھتے ہیں یہ سوالات ہی اس لئے اٹھتے ہیں کہ دل کے اندر احساس پیدا ہو چکا ہوتا ہے کہ ہے جماعت کچی لیکن منتظر رہتے ہیں کہ جب غلبہ ہو گا تب ہم شامل ہوں گے اس وقت فوائد اٹھا ئیں گے ، اب مصیبت میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔تو اول تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ کے اوپر انکا کوئی اجر نہیں ہے۔وہ پنے نفس کی پہلے بھی عبادت کرتے رہے بعد میں بھی نفس ہی کی عبادت کریں گے جب وہ ایمان لائیں گے پہلے بھی دنیا کے غالب لوگوں یعنی جھوٹے خداؤں کی عبادت کیا کرتے تھے بعد میں بھی غالب آنے پر بھی بچے خدا کو پہچانیں گے مگر اس لئے نہیں کے وہ خدا ہے اس لئے کہ وہ غالب آ گیا ہے ان کی نظر میں۔تو اگر آپ تجزیہ کریں ان کی نفسانی کیفیات کا اور نفسیاتی کیفیات کا تو وہ اپنے نفس