خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 458 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 458

خطبات طاہر جلدم 458 خطبه جمعه ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء مگر پاکستان کی موجودہ حکومت کا حال دیکھیں کہ اتنے گندے اور بھیا نک الزام بڑے یقین کے ساتھ شائع کر کے ساری دنیا میں مشتہر کروارہی ہے یہ بتانے کے لئے کہ یہ قومی اسمبلی تھی جس کے چہرے اس قدرسیاہ تھے اور اتنے گندے تھے کہ دنیا کی دوسری اسمبلیوں میں اگر اس سے سواں حصہ الزام لگ جائے تو وہ لوگ مستعفی ہو جایا کرتے ہیں۔واٹر گیٹ کا قصہ پاکستانی اسمبلی کے سامنے کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتا مگر پھر بھی ساری دنیا میں شور پڑ گیا کہ حکومت میں رہتے ہوئے فلاں شخص کی جاسوسی کروائی ہے اور اس پر امریکہ کی حکومت میں انقلاب آ گیا۔اب دیکھیں کہ وہ ایک دنیاوی حکومت ہے۔اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں مذہبی حکومت نہیں کہلاتی لیکن اخلاق کا یہ معیار ہے اور یہاں اسلامی حکومت کے معیار اخلاق کا حال دیکھ لیجئے ایک طرف لوگوں کو یہ بتاتے ہوئے تھکتے نہیں کہ ہے کی قومی اسمبلی انتہائی بد کردار اور بے حیالوگوں پر مشتمل تھی۔وہ اس قسم کے لوگ تھے یا نہیں یہ اللہ جانتا ہے مگر یہ حکومت بتاتی ہے کہ وہ بڑے گندے اور بے حیا لوگ تھے۔دوسری طرف یہی حکومت ان پر فخر کر رہی ہے کہ نعوذ بالله من ذلک یہ لوگ غلامان محمد مصطفی ﷺے ہیں۔ان لوگوں کو آنحضور ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہوئے تمہیں کوئی شرم وحیا محسوس نہیں ہوتی کجا یہ کہ ان کے فیصلوں کو شرعی حیثیت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے پھرتے ہو۔ہاں اگر تم یہ کہتے کہ ہم جھوٹے ہیں، ہم بد کردار ہیں، ہم نے جھوٹے الزام لگائے ہیں اور ہم ہر سزا کے مستحق ہیں اور یہ نیک اور بزرگ لوگ ہیں پھر جو چاہو پیش کرو مگر اس کے باوجود ان کے فیصلے کی شرعی حیثیت کیا ہے وہ میں آپ کو بتا تا ہوں۔اگر یہ لوگ نیک ہوتے تب بھی ان کے فیصلہ کی شرعاً کوئی بھی حیثیت نہ تھی کیونکہ مذاہب میں اس قسم کی باتوں پر فیصلے نہیں ہوا کرتے۔۷۴ء کی قومی اسمبلی نے جو کچھ کیا وہ تو احمدیت کی سچائی کا اتناعظیم الشان نشان ہے کہ اس زمانے میں اتنا عظیم الشان نشان شاذ کے طور پر آپ کو نظر آئے گا لیکن جیسا کہ میں نے کہا تھا پہلے میں نام نہادا کثریت کے بارہ میں بعض علماء کی آراء کے چند نمونے آپ کے سامنے رکھتا ہوں پھر میں دوسری بات کی طرف آؤں گا۔سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کہتے ہیں۔”ہم نام نہاد ا کثریت کی تابعداری نہیں کریں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اکثریت باطل پر ہے۔(سوانح حیات بخاری از حبیب الرحمن خان کا بلی صفحہ ۱۱۶)