خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 435 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 435

خطبات طاہر جلدم 435 خطبه جمعه ۰ ارمئی ۱۹۸۵ء خدا تعالیٰ اس عمارت کے نتیجہ میں آپکو جو نئے نئے پھل عطا کرے گا وہ خود بیج بن جائیں ، وہ خود نشو و نما کا ذریعہ بن جائیں۔اگر آپکی جیبیں چھوٹی ہیں تو وہ وسیع جیبیں لیکر آپ کے پاس آجائیں اور پھر آپ اپنے ماحول میں ارد گر دنئی عمارتیں اور نئی نئی زمینیں خریدنا شروع کر دیں اور سکاٹ لینڈ کی فتح کے لئے اسے بیج بنادیں اور صرف گلاسگو فتح نہ ہو بلکہ اس عمارت میں سارے سکاٹ لینڈ کی فتح کا پیچ بویا جائے۔پس اگر آپ اس بلند ارادے کے ساتھ افتتاح کریں اور خدا پر توکل کریں تو آج آپ کو بظاہر یہ عجیب باتیں دکھائی دے رہی ہوں گی۔آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ بہت بڑی بڑی باتیں ہیں لیکن اس سے زیادہ بڑی بات تو نہیں کہ فاقوں کے ساتھ پتھر توڑے جارہے ہوں اور قیصر و کسریٰ کی خوشخبریاں دی جارہی ہوں کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے میرے ہاتھ دے دیئے گئے ہیں، ان کے محلات کی چابیاں مجھے پکڑا دی گئی ہیں۔یہ دنیا کا افتتاح نہیں ہے اس بات کو یا درکھیں کہ یہ ایک مذہبی افتتاح ہے اور مذہبی افتتاح اسی قسم کی باتوں سے کیا جاتا ہے اور وہ جو خدا پر توکل رکھتے ہیں ان کی پگی باتیں بھی خدا کچی کر کے دکھا دیتا ہے۔ان کی پگلی باتیں بھی دنیا کے سیانوں کی باتوں سے اپنی عقل، اپنی حکمت اور اپنی معرفت میں آگے بڑھ جاتی ہیں۔چونکہ یہ ایک مذہبی عمارت ہے اس لئے اس کا افتتاح بھی مذہبی اسلوب پر ہونا چاہئے۔بلند ارادوں کے ساتھ افتتاح کریں اور پھر ان ارادوں کو جلد از جلد عمل کے سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔جمعہ اور خوشخبریوں کی باتیں ہو رہی تھیں اس ضمن میں مجھے یاد آیا کہ یہ جمعہ اتفاق سے ایسا ہے کہ آج دس تاریخ کو ہو رہا ہے یعنی آج مئی کی دس تاریخ ہے اور جمعہ بھی ہے اور جب میں یورپ کے سفر پر تھا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک کشفی نظارہ دکھایا تھا کہ سامنے ایک گھڑی ہے جس پر صرف دس کا عدد بہت نمایاں اور روشن ہے اور وہ جمعہ کا دن ہے اور جس روز یہ نظارہ دیکھا وہ بھی جمعہ کا دن تھا یا ایک دن پہلے کی بات ہے مگر بہر حال میری زبان پر یہ جاری ہوتا ہے FRIDAY THE 10TH ، اس پر مجھے تعجب بھی ہوتا ہے کہ The 10th سے مراد بظاہر تو تاریخ لگتی ہے اور گھڑی پر تاریخ تو نہیں لکھی گئی وہ تو گیارہ سے پہلے دس کا جو مقام ہوتا ہے عین اسی مقام پر دس کا عد دروشن ہے جو تاریخ کے طور پر نہیں بلکہ وقت کے طور پر ہے لیکن میں کہہ کیا رہا ہوں اس پر چونکہ اختیار نہیں تھا یعنی باوجود اس کے کہ ذہن اس حد تک کام کر رہا تھا، اس وقت یہ پتہ تھا کہ یہ گھڑی کا ہندسہ ہے تاریخ نہیں