خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 434 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 434

خطبات طاہر جلدم 434 خطبه جمعه ۰ ارمئی ۱۹۸۵ء نے آپکو دو چار رہنے کے لئے تو نہیں بنایا۔اول تو یہ کہ اگر آپ دو چار بھی ہیں تو اتنی بڑی عمارت کا حق پھر یوں ادا کریں کہ اس کے کونے کونے میں خدا تعالیٰ کو سجدے کریں ، کونے میں دعائیں کریں اور اللہ کا ذکر بلند کریں۔پھر یہ عمارت آپکو دو چار نہیں رہنے دے گی ، یہ اپنے نمازی خود پیدا کرے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک ہے جو جماعت احمدیہ کے ساتھ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے۔بہت بڑی چھلانگ ماری اور کوئی بہت بڑی عمارت تعمیر کر دی تو دیکھتے ہی دیکھتے یہ محسوس ہوا کہ وہ عمارت چھوٹی تھی اور اس کے آباد کرنے والے اس کی وسعت سے کہیں زیادہ آگے نکل گئے۔ہمیشہ سے جماعت کے ساتھ یہی سلوک ہو رہا ہے۔ہمیشہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام وسع مکانک ( تذکرہ صفحہ: ۴۱) کو اس شان سے پورا ہوتے دیکھا ہے کہ کسی مکان کو وسعت دی اور پھر وہ مکان چھوٹا رہ گیا ، پھر وسعت دی اور پھر چھوٹا رہ گیا اور وسع مـکـانـک کا حکم کہ اپنے مکان کو وسعت دیتے چلے جاؤ یہ قائم رہا اسی طرح کبھی ایک دفعہ بھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ جماعت احمدیہ نے کوئی عمارت بنائی ہو اور وہ عمارت بڑی رہ گئی ہو بلکہ چھوٹی ہو جاتی ہے۔ابھی ہم نے انگلستان میں چھپیس ایکٹر زمین اسلام آباد میں لی تو وہاں اتنی بڑی بڑی بلڈنگز ہیں کہ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ہم ان کو کیسے سنبھال لیں گے لیکن ابھی پورا سال بھی نہیں گزرا بلکہ صرف آغا ز ہی ہوا ہے کہ وہ عمارت چھوٹی نظر آنے لگی ہے۔وہاں ہم نے سکول بھی کھولنا ہے۔بہت سے جماعتی پروگرام ہیں ایسے میں اب محسوس ہو رہا ہے کہ توسیع کے لیے درخواست کرنی پڑیگی کیونکہ یہ عمارت تو ہمارے سارے کاموں کے لئے کافی نہیں ہے۔پس خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے جب آپ بڑی بڑی عمارتیں لیتے ہیں یا بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کام اتنے بڑھا دیتا ہے اور اسے آباد کرنے والے اپنے بندے اتنے عطا کر دیتا ہے کہ پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ عمارتیں چھوٹی نظر آنے لگتی ہیں۔تو یہ بھی میرا ایک ارادہ تھا کہ میں آپ کو یہ بتاؤں اور سمجھاؤں کہ آپ اس عمارت کو چھوٹا کر کے دکھا ئیں اور جلد از جلد چھوٹا کریں۔پس آپ کے لئے پہلا پروگرام تو یہی ہے کہ تبلیغ میں اتنی کوشش کریں اور یہاں کے مقامی دوستوں کو اتنی جلدی اسلام سے روشناس کروائیں اور انہیں اسلام کی طرف کھینچ کر لے آئیں کہ ہمیں یہ عمارت دیکھتے ہی دیکھتے حقیقتاً چھوٹی دکھائی دینے لگی مگر یہ تو پہلی منزل ہے۔دوسرا قدم پھر یہ ہوگا کہ