خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 413
خطبات طاہر جلدم 413 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء اس وقت یہ لوگ الٹا ہم پر حملے کرنے لگے کہ اچھا پھر تمہارا قرآن اور ہے اور ہمارا قرآن اور۔ہمارا قرآن تو وہی قرآن ہے جو تمام انبیاء کی عصمت کی گواہیاں دیتا ہے ان پر گندے الزام نہیں لگاتا ہے۔اور زلیخا کے متعلق سنئے۔ایک نہایت ہی عجیب و غریب قصہ درج کرتے ہیں۔یہ اقتباس چونکہ بڑا لمبا ہے اس لئے میں اس میں سے ایک حصہ کو لیتا ہوں فرماتے ہیں۔انصاف اور حقیقت ایمان و دیانت کی نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ حضرت زلیخا کی پاک دامنی کی مثال آج ہمارے معاشرہ میں مفقود ہے (انالله وانا اليه راجعون) اس معاشرہ کا کیا حال ہو گا جس میں یہ ”پاکدامنی“ مفقود ہو ) کہ جس اللہ کی بندی نے تمام عمر صبر وتحمل سے گزار دی اور دامن عصمت کو داغدار نہ ہونے دیا اور باوجود دولت مند و حسینہ جمیلہ ہونے کے جب کہ بوجہ زمانہ جاہلیت آزادی و بے پردگی بھی میسر تھی ایک نامرد کے ساتھ سب جوانی گزاری۔اور دولت بکارت کو کمال حفاظت سے بچائے رکھا۔یہ بھی اپنی طرف سے قصہ گھڑ لیا کہ عزیز مصر گویا کہ نا مرد تھا کیسی کیسی جولانیاں دکھا رہے ہیں ان کے دماغ ! ) ایک شادی شدہ عورت کو حصول نفسانیت و بد چلنی کی وہ تمام سہولتیں حاصل ہوتی ہیں جو بے نکاحی گھر یلو پابندلڑکی کو میسر نہیں ہو سکتیں۔اور جتنا بے نکاحی گھر کی مستورہ عورت کو بد نامی کا خطرہ ہوتا ہے اتنا شادی شدہ کو نہیں ہوتا۔ایسی آزاد فضا کی پرورش یافتہ عورت کا اپنی چادر عصمت کو تار تار نہ ہونے دینا ولایت کاملہ اور فضل ربی نہیں تو اور کیا ہے۔(زلیخا کا یہ ذکر قرآن کریم میں پڑھ لیں اور پھر اس عبارت پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ جواز کس قسم کے ڈھونڈ نکالے ہیں۔ان کا تو با قاعدہ تجزیہ ہونا چاہیے تا کہ کسی زمانہ کے سائنسدان پھر یہ غور کریں کہ ان لوگوں کے دماغوں کی بناوٹیں کیا تھیں۔جنہوں نے یہ قصے گھڑے ہیں۔یہی نہیں آگے سنئے اس قصہ میں تو حد کر دی ) مگر آفرین ہے اے نبی کی پاک دامن بیوی زلیخا۔( یعنی حضرت یوسف سے شادی بھی کروادی کہتے ہیں آفرین ہے اے نبی کی پاک دامن بیوی زلیخا )